Al-Risala · August 1984 · page 13

غیر مشرکین کا شرک

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۱۳

یہی معاملہ کبھی قومی تاریخ کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جن لوگوں کا ماضی شاندار رہا ہو، وہ بعد کے دور میں عام طور پر اپنی تاریخ کی پرستش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے لئے ان کی قومی تاریخ حرکت کا سرچشمہ (Source of inspiration) بن جاتی ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے سچے مومن کے لئے اس کا عقیدہ خدا اس کے حرکت کا سرچشمہ ہوتا ہے۔

اس قسم کی تمام صورتیں شرک کی صورتیں ہیں۔ پیغمبر چونکہ غیر خدا کی پرستش کے تمام طریقوں کو غلط قرار دیتے ہیں اور ان کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں، اس لئے لوگ ان سے بگڑ جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کی مخالفت حقیقتہ اسی قسم کے جھوٹے معبودوں پر تنقید کی بنا پر ہوتی تھی نہ کہ کسی سیاسی وجہ سے۔ آج بھی یہ منظر ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔ آج اگر چہ مظاہرِ فطرت کی پرستش کم ہوگئی ہے تا ہم بقیہ دونوں پرستشیں پورے عروج پر ہیں۔ کہیں اپنے اکابر کی اور کہیں قومی تاریخ کی۔ آج بھی بے شمار لوگ مشرکانہ نفسیات میں مبتلا ہیں۔ خواہ بظاہر وہ اپنے آپ کو مشرک نہ مانتے ہوں۔ کسی شخص کا معبود کیا ہے، اس کی خاص پہچان یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ وہ سب سے زیادہ کس کا تذکرہ کرتا ہے۔ ایک شخص سب سے زیادہ جس چیز کا تذکرہ کرتا ہو، جس کو بڑا ظاہر کر کے اسے لذت ملتی ہو، جس کی یاد سے اس کی روح غذا پاتی ہو، وہی اس کا معبود ہے۔ جس شخص کی زندگی میں یہ مقام خدا کو حاصل ہو وہ موحد ہے اور جس کی زندگی میں خدا کے سوا کوئی اور یہ مقام حاصل کرلے وہ مشرک۔ لوگ خدا کے سوا جس کو اپنا معبود بنا لیں اس کے خلاف وہ کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے۔ وہ اس وقت تک بالکل ٹھیک دکھائی دیتے ہیں جب تک ان کے مفروضہ معبودوں کو کچھ نہ کہا گیا ہو مگر جیسے ہی ان کی محبوب شخصیت پر تنقید کی جائے یا ان کی پر فخر تاریخ پر کوئی اظہار رائے کیا جائے، وہ فوراً بپھر اٹھتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں پتھر کے بت ہوا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں نے نفسیاتی بت بنا لئے ہیں۔ آج کا انسان اپنے نفسیاتی بت کے ٹوٹنے پر اسی طرح شدید رد عمل کا اظہار کرتا ہے جس طرح قدیم زمانے کے مشرک اپنے پتھر کے بتوں کے ٹوٹنے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے تھے۔ جب آدمی دوسری چیزوں سے اس طرح محبت کرے جس طرح محبت خدا سے کرنا چاہئے، جب دوسری شخصیتوں سے اس کو وہ قلبی وابستگی ہو جائے جس کا حقدار صرف اس کا خدا ہے تو یہی غیر خدا کو اپنا خدا بنانا ہے۔ ایسے تمام لوگ خدا کے نزدیک شرک کے مجرم ہیں، خواہ دنیا میں بظاہر وہ دین اور توحید کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page