ایک اور لفظ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶
ایک اور لفظ
ایک صاحب الالرسالہ کے دفتر میں آئے۔ لباس سے معلوم ہوتا تھا کہ انگریزی تعلیم یافتہ ہیں۔ انھوں نے رسالہ مئی 1984 کا صفحہ4 کھولا اور فرمایا ”دیکھئے، یہ آپ نے غلط ترجمہ کیا ہے“ اس کے بعد انھوں نے مذکورہ صفحہ میں انگریزی لفظ Dessert پر انگلی رکھتے ہوئے کہا کہ اس کا ترجمہ آپ نے صحرا کر دیا ہے۔ حالاں کہ یہ لفظ انگریزی زبان میں مٹھائی پھل وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے جو کھانے کے بعد کھائے جائیں۔ صحرا کے لئے انگریزی میں جو لفظ ہے وہ Desert ہے (پہلے لفظ میں دو ایس اور دوسرے لفظ میں ایک ایس)
میں نے کہا کہ جناب، آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے میں خود ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم بتائیں کہ کیا آپ انگریزی لفظ Pun سے واقف ہیں۔ وہ چپ ہو گئے۔ دوبارہ پوچھنے پر بتایا کہ میں Pun کے معنی نہیں جانتا۔ میں نے کہا کہ مذکورہ عبارت میں Dessert اور Desert کے ترجمہ کے معاملہ کو سمجھنے کے لئے اس دوسرے لفظ (پن) کو جاننا ضروری ہے۔ پھر میں نے کہا کہ صدر ریگن کے مذکورہ فقرہ میں دراصل وہ ادبی اسلوب استعمال ہوا ہے جس کو انگریزی میں Pun اور اردو میں ایہام کہتے ہیں۔ اس سے مراد ایسے الفاظ کا مزاحیہ استعمال ہے جو بولنے میں مشابہہ ہوں مگر معنی میں مختلف ہوں۔ جیسے ایک شیعہ مصنف نے اورنگ زیب کی افواج کے بارہ میں یہ جملہ لکھا ہے—“مردان بطالت شعار“ بطالت کے ایک معنی شجاعت کے ہیں۔ مگر اس لفظ کا دوسرا مفہوم بھی ہے جو باطل کے ہم معنی ہے۔ اس طرح مصنف نے بظاہر ایک اچھا لفظ بول کر تو ریہ کے انداز میں فوجیوں کی تنقیص بھی کر دی۔
صدر ریگن کے مذکورہ فقرہ میں یہی ادبی اسلوب پایا جاتا ہے۔ ریگن نے اپنی خوراک سے متعلق سوال کے ذیل میں ڈزرٹ (میٹھی چیزوں) کا لفظ استعمال کیا۔ ایک بوڑھے آدمی کی زبان سے یہ بات بظاہر عجیب تھی۔ چنانچہ انٹرویو لینے والے نے دوبارہ سوال کیا۔ اب ریگن نے صوتی اشتراک سے فائدہ اٹھایا اور ایہام کے اصول پر مسکر آکر کہا ہاں ڈزرٹ Dessert مگر عرب جیسا ڈزرٹ جہاں تیل پایا جاتا ہو۔
اس قسم کی لفظی صنعت ہمیشہ اس خاص زبان کے اعتبار سے ہوتی ہے جس میں وہ استعمال ہوئی ہے۔ اب اگر اس انگریزی فقرہ کا اردو میں بالکل لفظی ترجمہ کر دیا جائے تو مطلب خبط ہو جائے گا۔ دوسری
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues