Al-Risala · August 1984 · page 17

ایک اور لفظ

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۱۷

صورت یہ ہے کہ لفظی ترجمہ کرکے اس کے ساتھ ایک تشریحی نوٹ کا اضافہ کیا جائے۔ دونوں صورتیں غیر احسن ہیں۔ کیوں کہ ان سے کلام کی لطافت مجروح ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ترجمہ میں مفہوم کی رعایت کی گئی۔

کبھی ایک "لفظ" کی حقیقت جاننے کے لئے ایک اور "لفظ" کو جاننا ضروری ہوتا ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو سمجھتے ہوں۔

یہاں دوسری نوعیت کی ایک مثال لیجئے۔

۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف ہندوستانیوں کی بغاوت ناکام ہو گئی۔ اس کے بعد انگریزوں نے اپنی حکومت کے استحکام کے لئے مقامی باشندوں پر سختی شروع کی۔ جس شخص کے متعلق ذرا بھی مخالف انگریز ہونے کا شبہ ہوا اس کو فوراًپکڑ کر سخت ترین سزا دی گئی۔

اس زمانہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ کچھ مسلم علماء کو صرف اس بنا پر سزا دی گئیں کہ انہوں نے انگریزوں کو " نصاریٰ " کہا یا لکھا تھا۔ اس زمانہ کے انگریز حکمرانوں نے بعض مسلمانوں کی تحریروں میں اپنی بابت " نصاریٰ " کا لفظ دیکھا تو سمجھا کہ یہ ان کو حقیر کرنے کے لئے ہے۔ دور قدیم کے یہودی حضرت عیسیٰ کو حقارت سے ناصری کہتے تھے۔ یعنی ناصرہ نامی گاؤں کا رہنے والا۔ انھوں نے سمجھا کہ اسی طرح مسلمانوں نے انگریزوں کو " نصاریٰ " کہنا شروع کیا ہے۔ وہ ناصری اور نصاریٰ کو ہم معنی سمجھتے تھے۔ یہ معاملہ یہاں تک بڑھا کہ سرسید نے ایک کتابچہ شائع کیا جس کا نام تھا " تحقیق لفظ نصاریٰ " انھوں نے اس کتابچہ کو اردو کے علاوہ انگریزی میں چھپوا کر برطانی حکمرانوں تک پہنچایا۔

انگریزوں کا یہ خیال سراسر غلط فہمی پر مبنی تھا۔ ناصری قریہ ناصرہ کی طرف نسبت کر کے بنا ہے جب کہ نصاریٰ کا تعلق انصار سے ہے۔ یعنی مدد کرنے والا۔ حضرت مسیح کے زمانہ میں قوم یہود کے جو چند افراد حضرت مسیح کی نصرت کے لئے اٹھے ان کو انصاریا انصاری کہا گیا۔ اسی سے لفظ نصاریٰ بنا ہے۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے جو زندگی کے ہر معاملہ میں چسپاں ہوتی ہے۔ ہر معاملہ میں یہ صورت حال ہے کہ ایک بات کو سمجھنے کے لئے دوسری کئی باتوں کو جاننا ضروری ہوتا ہے۔ ایک لفظ کے معنی اسی وقت بخوبی طور پر سمجھ پاتا ہے جب کہ وہ دوسرے بہت سے الفاظ سے واقفیت رکھتا ہو۔ جو لوگ جزئی واقفیت کی بنیاد پر اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں یا چند باتوں کو سن کر نازک امور میں بڑے بڑے بیان دینے لگتے ہیں ان کے بارہ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ یا تو غیر سنجیدہ ہیں یا غیر عاقل۔ اس کی کوئی تیسری توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page