کیسا عجیب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۱۸
کیسا عجیب
ایئر انڈیا کا ایک جہاز ۳ جون 1984 کو بنکاک سے بمبئی کے لئے اڑا۔ یہ بوئنگ ۷۴۷ تھا۔ اس میں چار انجن نصب تھے اور عملہ کے علاوہ ۵۲ مسافر سوار تھے۔ جہاز ابھی فضا میں پہنچا تھا کہ اس کے ایک انجن میں آگ لگ گئی۔ تاہم کیپٹن ورما نے ہوشیاری کی اور جہاز کو قریب کے ہوائی اڈہ ڈون موانگ Don Muang پر اتار لیا۔ اڑنے کے ۲۰ منٹ بعد جہاز دوبارہ زمین پر تھا۔
پائلٹ کی ہوشیاری سے جہاز حفاظت کے ساتھ رن وے پر اتر گیا جہاں ریڈیائی اطلاع پا کر پہلے سے آگ بجھانے والے انجن موجود تھے۔ تاہم بہت سے مسافر زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ اس کی وجہ جہاز کا حادثہ نہیں تھا۔ بلکہ اخباری رپورٹ۔ (ٹائمز آف انڈیا ۴ جون 1984 کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی :
Most of the injuries were due to passengers rushing for the emergency exit from where they descended through a chute. یعنی بیشتر زخموں کی وجہ مسافروں کا آپس کا ٹکر اوتھا۔ کیوں کہ جب جہاز اترا تو مسافر تیزی سے دروازہ کی طرف دوڑ پڑے جہاں انھیں ایک ڈھلوان گاڑی سے نیچے اترنا تھا۔
جہاز کی آگ نے ابھی کسی کو پکڑا نہیں تھا۔ صرف یہ اندیشہ تھا کہ شاید پکڑ لے اور آدمی جل کر مر جائے۔ تاہم اس اندیشہ نے لوگوں کو اتنا بد حواس کر دیا کہ وہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ ان میں سے ہر شخص یہ چاہنے لگا کہ سب سے پہلے وہ بھاگ کر آگے نکل جائے ۔
مگر ایک اس سے زیادہ ہولناک خطرہ آدمی کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ موت اور اس کے بعد قیامت کا خطرہ ہے۔ لیکن کسی کو اس کے اندیشہ سے بدحواسی نہیں۔ کوئی اس سے بھاگنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ کس قدر سچ فرمایا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے جہنم کی آگ سے خوفناک چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا بے خبر سو گیا ہو (مار أيت مثل النار نام هاربا)
آدمی کو موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز متحرک کرتی ہے وہ "خوف "ہے۔ خوف کی نفسیات عمل کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے۔ آخرت کا خوف تمام خوفوں میں سب سے بڑا خوف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آخرت کا خوف واقعی معنوں میں کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ آدمی کی پوری شخصیت کو جگا دے گا۔ وہ اس کی تمام قوتوں کو متحرک کر دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues