کیسا عجیب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰
اکبر نے ان دونوں عیسائی معلمین کو شاہی عبادت خا کے پاس " خوشبو خانہ " میں ٹھہرایا۔ مگر یہ دونوں مسیحی صرف " معلم " نہ تھے۔ بلکہ وہ اپنے مذہب کے تربیت یافتہ مبلغ تھے۔ چنانچہ انھوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ خوشبو خانہ کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ یہ شمالی ہند کا پہلا گر جا گھر تھا جو اکبر کے زمانہ میں قائم ہوا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ نادر اکوا و یوانے پوپ کو جورپورٹ بھیجی تھی اس میں اس نے لکھا کہ میرا احساس یہ ہے کہ اکبر ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو رہا ہے کہ وہ مسیحیت کو قبول کرلے۔ مگر اس سے اکبر کا اصل مقصد (سلطنت کا استحکام) حاصل نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے اکبر ایسے اقدام سے باز نہ رہا۔ اس واقعہ میں دو بڑے سبق ہیں۔ ایک سبق یہ کہ دولت اور اقتدار کا حصول اکثر عقل سے محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ کسی آدمی کو جب دولت اور اقتدار مل جاتا ہے تو اکثر اس کو وہ ایسے کاموں میں ضائع کرتا ہے جس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ شہنشاہ اکبر نے سیاسی خوش خیالی تحت " دین الہی " وضع کیا تھا۔ اس پر اس نے سلطنت کے بے پناہ وسائل خرچ کئے۔ حالاں کہ اس کا انجام بالاخر یہ ہونا تھا کہ وہ تاریخ کے ملبہ کے نیچے دب کر رہ جائے اور آثار قدیمہ کے طالب علموں کے سوا کسی اور کو اس سے دل چسپی نہ رہے۔
دوسرا سبق دعوتی ہے۔ اکبر نے پوپ سے مسیحی معلم مانگے اور اس نے فوراً دو تیار شدہ افراد اس کے پاس بھیج دئے۔ جب کہ مسلمانوں سے جدید دور میں بار بار یہی تقاضا کیا گیا ہے مگر وہ اس تقاضے کو کبھی پورا نہ کر سکے۔ مسیحی ادارے اپنی مشنری اسپرٹ کی وجہ سے سیکڑوں سال سے اس پوزیشن میں ہیں کہ مشرق و مغرب میں اپنے تربیت یافتہ افراد بھیج سکیں ۔ جب کہ مشنری اسپرٹ سے محروم ہو کر مسلمانوں کا یہ حال ہورہا ہے کہ ان کے پاس نہ مشرقی ضرورت کے مطابق خدا کے دین کے مبلغ موجود ہیں اور نہ مغربی ضرورت کے مطابق۔
دور جدید میں مسلمانوں کی بربادی کا واحد سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ مسلمانوں کی حیثیت خدا کے گواہ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عملی سرگرمیوں کا اصل نشانہ صرف ایک ہے اور وہ دعوت ہے۔ جن لوگوں کی نظریں اس نشانہ پر جمی ہوئی ہوں وہ اپنے لئے عمل کا صحیح میدان پالیں گے اور جب نظریں اس نشانہ سے ہٹ جائیں تو تمام قوتیں منتشر ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی قوم بن جاتے ہیں جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ وہ ایسا گروہ بن جاتے ہیں جس کا کوئی اقدام نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues