Al-Risala · August 1984 · page 21

اختلافات

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱

اختلافات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا یا نہیں دیکھا، اس کے بارے میں صحابہ کے درمیان دو رائیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس اور اکثر صحابہ رویت کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معراج کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اسی طرح دیکھا جیسے کوئی شخص کسی چیز کو دیکھتا ہے۔

مگر حضرت عائشہ کا خیال اس کے برعکس تھا۔ مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا رسول خدا نے معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا۔ حضرت عائشہ نے کہا، تم نے ایسی بات اپنے منہ سے نکالی ہے کہ میرے سر کے بال کھڑے ہو گئے۔ تین باتیں ایسی ہیں کہ جو بھی ان کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لا تدرکہ الابصار وهو يدرك الابصار (الانعام ۱۰۳)

اتنے نازک معاملہ میں اتنے بڑے اختلاف کے باوجود صحابہ کے درمیان نہ جھگڑے پیدا ہوئے اور نہ فرقے بنے۔ ان کا اختلاف اظہار رائے کے دائرے میں رہا، اس سے آگے نہ جا سکا۔ مگر بعد کے زمانہ میں اسی رویت باری کے مسئلے پر زبردست معرکہ آرائیاں ہوئیں اور مسلمان مستقل طور پر دو فرقوں میں بٹ گئے، جن میں سے ایک معتزلہ کہلائے اور دوسرا وہ جس کو اہل سنت کہا جاتا ہے۔ اہل سنت نے اپنے اقتدار سے فائدہ اٹھا کر اگرچہ معتزلہ کو ختم کر دیا تاہم تاریخ اور درسیات میں ان کا غلغلہ ابھی تک جاری ہے۔ قرآن میں ایک آیت ہے کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی جزا جہنم ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہوگی (النساء ۹۳) اس آیت کی بنیاد پر حضرت عبد اللہ ابن عباس حضرت زید ابن ثابت اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا خیال تھا کہ جو شخص بالارادہ کسی مومن کو قتل کر دے اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ سعید ابن جبیر تابعی کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ ابن عباس سے پوچھا کہ جو شخص کسی مومن کو بالقصہ قتل کر دے اس کی تو بہ قبول ہوگی یا نہیں۔ عبد اللہ ابن عباس نے جواب دیا کہ نہیں۔ سعید ابن جبیر نے سورہ فرقان کی آیت نمبر - ۶۸ سے استدلال کرتے ہوئے اس رائے سے اختلاف کیا۔ اس کے جواب میں حضرت عبد اللہ ابن عباس نے کہا، یہ آیت مکی ہے جس کو مدنی آیت نے منسوخ کر دیا۔

تا ہم صحابہ کی اکثریت کا یہ خیال تھا کہ قاتل کے لئے بھی توبہ کی گنجائش ہے کیوں کہ قتل بہر حال

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page