Al-Risala · August 1984 · page 43

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۴۳

ذریعہ سائنس سے غلط طور پر الحاد کو بر آمد کرسامنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف دینی مفکرین کی صف میں چند ہی قابل ذکر علمی کوششوں کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے ایک قابل قدر کتاب سرجیمز جینز کی پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) ہے۔ اس کتاب میں لائق مصنف نے نظریہ تعلیل (Principle of Causation) کو خالص سائنسی استدلال کے ذریعہ منہدم کر دیا ہے جس کو موجودہ زمانہ میں خدا کا مشینی بدل سمجھ لیا گیا تھا۔

موجودہ صدی کے نصف آخر میں بے شمار نئے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں جو نہایت بر ترسطح پر دینی عقائد کی حقانیت کو ثابت کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کوئی ایسا دینی مفکر نے نہیں آیا جو ان سائنسی معلومات کو دینی صداقتوں کے اثبات کے طور پر مدون کرے ۔ اگر یہ کام اعلیٰ سطح پر ہو سکے تو وہ دعوت توحید کے حق میں ایک علمی معجزہ ظاہر کرنے کے ہم معنی ہوگا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں جتنے پیغمبر آئے سب کی پیغمبری پر ان کے ہم عصر مخاطبین نے شک کیا ( ہود ۶۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ابتدائی یہی صورت پیش آئی کہ آپ کے مخاطبین اول آپ کی نبوت پر شک کرتے رہے (ص ۸) تاہم اس کے ساتھ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کیا جائے گا عسىٰ ان یبعثك ربك مقاما محمودا) اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی نبوت شک کے مرحلہ سے گزر کر ایک ایسے مرحلہ میں پہنچے گی جب وہ مکمل طور پر تسلیم شدہ نبوت بن جائے۔ محمود ( قابل تعریف ) ہونا تسلیم و اعتراف کا آخری درجہ ہے۔

ہر نبی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی قوم کے اندر ایک ایسی شخصیت ہوتا ہے جس کو لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ واقعہ پیغمبر ہیں یا صرف دعویٰ کر رہے ہیں ، اس طرح کے خیالات لوگوں کے ذہن میں گھومتے ہیں اور آخر وقت تک ختم نہیں ہو پاتے۔ پیغمبری اپنے ابتدائی دور میں صرف دعویٰ ہوتی ہے۔ وہ اپنے دعویٰ کا ایسا ثبوت نہیں ہوتی جس کو ماننے پر لوگ مجبور ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر آیا وہ اپنی قوم کی نظر میں ایک نزاعی شخصیت بن گیا۔ کیونکہ پیغمبر کی صداقت کو جاننے کے لیے لوگوں کے پاس اس وقت اس کا صرف دعویٰ تھا۔ اس کے حق میں مسلمہ تاریخی دلائل ابھی جمع نہیں ہوئے تھے۔ اس قسم کے دلائل ہمیشہ بعد کو وجود میں آتے ہیں۔ مگر عام طور پر انبیاء کا معاملہ اس بعد کے مرحلہ تک پہنچ نہ سکا۔

دوسرے پیغمبرانہ اکی دور میں شروع ہوئے اور رزاعی دور ہی میں ان کا اختتام ہو گیا۔ کیوں کہ ان کے بعد ان کے پیغام کی پشت پر ایسا گر وہ جمع نہ ہو سکا جوان کی سیرت اور ان کے کلام

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page