Al-Risala · August 1984 · page 22

اسلامی انقلاب

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲

اتار دیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سائنس نے جو نئے دلائل فراہم کئے ہیں ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو دین توحید کی دعوت کو اس بر سطح پر پیش کیا جا سکتا ہے جس کے لئے اس سے پہلے معجزات ظاہر کئے جاتے تھے۔

زمین و آسمان میں جو چیزیں ہیں وہ اس لئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر آدمی خدا کو یاد کرے۔ مگر انسان نے خود انھیں چیزوں کو خدا سمجھ لیا۔ یہ ایک قسم کا انحراف تھا۔ اس قسم کا انحراف موجودہ زمانہ میں سائنسی معلومات کے بارہ میں پیش آ رہا ہے۔ سائنسی تحقیق سے جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ سب خدا کی خدائی کا ثبوت ہیں۔ وہ انسان کو خدا کی یاد دلانے والے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے ملحد مفکرین نے دوبارہ ایک انحراف کیا۔ انھوں نے سائنسی حقیقتوں کو غلط رخ دے کر یہ کیا کہ جس چیز سے خدا کا ثبوت نکل رہا تھا اس کو انھوں نے اس بات کا ثبوت بنا دیا کہ یہاں کوئی خدا نہیں ہے۔ بلکہ سارا نظام ایک مشینی عمل کے تحت اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔

سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے وہ ایک حد درجہ با معنی اور بامقصد کائنات ہے جدید دریافتوں نے ثابت کیا ہے کہ ہماری دنیا منتشر مادہ کا بے معنی انبار نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجہ کا منظم کار خانہ ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں بے حد ہم آہنگی کے ساتھ ایک ایسے رخ پر سفر کرتی ہیں جو ہمیشہ با مقصد نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔ کائنات میں نظم اور مقصدیت کی دریافت واضح طور پر ناظم کی موجودگی کا اقرار ہے۔ وہ کائنات کے پیچھے خدائی کار فرمائی کا یقینی ثبوت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے بے خدا مفکرین نے یہ کیا کہ اس سائنسی دریافت کا رخ الحاد کی طرف موڑ دیا۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ ثابت ہوا ہے وہ بجائے خود واقعہ ہے۔ مگر اس کا کیا ثبوت کہ وہ کوئی نتیجہ (End) ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ محض ایک اثر (Effect) ہو۔ یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ یہاں کوئی ذہن ہو جو شعور اور ارادہ کے تحت بالقصد واقعات کو ایک خاص انجام کی طرف لے جا رہا ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ واقعات کے بے شعور عمل کے اثر سے اپنے آپ ایک چیز بر آمد ہو رہی ہو، جو اتفاق سے بامعنی بھی ہو__ یہ بے معنی توجیہہ خود ایک ارادہ کے تحت وجود میں آئی ہے۔ پھر کیسی عجیب بات ہے کہ با معنی کائنات کو بلا ارادہ کار فرمائی مان لیا جائے۔

ایک طرف سائنس کے ظہور کے بعد ملحد مفکرین نے بہت بڑے پیمانہ پر سائنس کو الحاد کا رخ دینے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اس کے مقابلہ میں مذہبی مفکرین کی کوششیں اتنی ہی کم ہیں۔ پچھلے سوسال کے اندر ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ علمی کتابیں چھپی ہیں جن کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page