خدا کے ساتھ ہمارا تعلق
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰
آلود کے اندر کوئی تنکا گر جائے ۔ ظاہر ہے کہ زمین کو یہ طاقت ہم نے نہیں دی ہے بلکہ اس خدا نے دی ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔
کائنات کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں اس کا نام نظام شمسی ہے ، اگر آپ کسی دور دراز مقام پر بیٹھ کر اس نظام کا مشاہدہ کرسکیں تو آپ دیکھیں گے کہ اتھاہ خلا کے اندر ایک آگ کا گولابھڑک رہا ہے جو ہماری زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ جس سے اتنے بڑے بڑے شعلے نکلتے ہیں جو کئی کئی لاکھ میل تک فضا میں اڑتے چلے جاتے ہیں ، اسی کا نام سورج ہے۔ پھر آپ ان سیاروں کو دیکھیں گے جو سورج کے چاروں طرف اربوں میل کے دائرے میں پروانوں کی طرح چکر لگارہے ہیں۔ ان دوڑتی ہوئی دنیاؤں میں ہماری زمین نسبتاً ایک چھوٹی دنیا ہے جس کی گولائی تقریباً پچاس ہزار میل ہے۔ یہ ہمارا نظام شمسی ہے جو بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے ۔ مگر کائنات کی وسعت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔
کائنات میں اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں جن کے اوپر ہمارا پورا نظام شمسی رکھا جاسکتا ہے۔ اس بے انتہا وسیع اور عظیم کائنات میں ہماری زمین فضا میں اڑنے والے ایک ذرے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے کیڑے کی مانند اس ذرے سے چمٹے ہوئے ہیں اور خلا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سفر میں مصروف ہیں۔
یہ کائنات کے اندر ہماری حیثیت ہے ۔ غور کیجئے انسان کس درجہ حقیر ہے ۔ وہ خارجی طاقتوں کے مقابلے میں کس قدر عاجز ہے ۔ پھر حبیب ہماری حیثیت یہ ہے تو ہم خالق کائنات سے مدد طلب کرنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔ جس طرح ایک چھوٹے بچے کی ساری کائنات اس کے ماں باپ ہوتے ہیں ۔ اس کی زندگی ، اس کی ضرورتوں کی تکمیل اور اس کے مستقبل کا انحصار بالکل اس کے والدین کے اوپر ہوتا ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ انسان اپنے رب کا محتاج ہے۔ ہم خدا کی مدد اور اس کی رہنمائی کے بغیر اپنے لئے کسی چیز کا تصور نہیں کر سکتے ۔ وہی ہمارا سہارا ہے اور اسی کی طرف ہمیں دوڑ نا چاہئے۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انسان خدا کی رہنمائی اور اس کی مدد کا محتاج ہے ۔ خدا کے مقابلے میں انسان کی یہی حیثیت قرار پاتی ہے اور خود انسان کے لئے بھی اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ خدا سے اپنے لئے مدد اور رہنمائی کی درخواست کرے۔ یہ حقیقت پسندی ہے اور حقیقت پسندی بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
یہ حقیقت پسندی ہے اور حقیقت پسندی بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی صفت
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues