Al-Risala · January 1984 · page 29

خدا کے ساتھ ہمارا تعلق

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

ظاہر ہے کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے، جو ہمارے لئے تمام موزوں ترین حالات کو مسلسل باقی رکھے ہوتے ہیں اور ان کو ہمارے حق میں ہموار کرتا رہتا ہے۔ جو ہر آن ہماری پرورش کر رہا ہے۔ اس کا ہمارے اوپر یہ لازمی حق ہے کہ ہم اپنے مقابلے میں اس کی بر تر حیثیت کو تسلیم کریں۔ اور بالکل اس کے بندے بن جائیں۔ انسان جن قدروں سے واقف ہے ان میں سب سے نمایاں اور اہم ترین قدر یہ ہے کہ احسان کرنے والے کا احسان مانا جائے۔ محسن خواہ اپنی طرف سے نہ دبائے مگر جو احسان مند ہے وہ خود اس کے سامنے دب جاتا ہے، محسن کے آگے اس کو نظر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کا خدا ہونا خود ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کی خدائی کو تسلیم کریں اور اس کی مرضی پوری کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ بندے کی طرف سے خدا کی اطاعت کے لئے اس کے سوا کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔

مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ یہ صرف حق شناسی کا تقاضا نہیں ہے کہ ہم خدا کی خدائی اور اس کے مقابلے میں اپنی بندگی کو تسلیم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لئے اس کے سوا کوئی راہ بھی نہیں ہے۔ ہماری زندگی کے سارے مسائل خدا سے متعلق ہیں۔ ہم کو جو کچھ ملے گا، اسی سے ملے گا۔ اس کے سوا کوئی اور ہمیں کچھ نہیں دے سکتا۔ ہم اس کائنات میں اس قدر عاجز اور مجبور ہیں کہ خدا کی مدد کے بغیر ایک لمحہ کے لئے اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکتے۔ پھر خدا کو چھوڑ کر آخر ہم اور کہاں جا سکتے ہیں۔

ذرا غور کیجئے، یہ ہندوستان کی شمالی سرحد پر ہمالیہ پہاڑ کا ڈھائی ہزار میل لمبا سلسلہ کس نے قائم کیا ہے۔ ہم نے یا خدا نے۔ اگر ہمالیہ پہاڑ نہ ہوتا تو خلیج بنگال سے اٹھنے والی جنوب مشرقی ہوائیں جو ہر سال ہمارے لئے بارش لاتی ہیں۔ بالکل پانی نہ برساتیں۔ وہ سیدھی روس کی طرف نکل جاتیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام شمالی ہندوستان منگولیا کی طرح ریگستان ہوتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ سورج اپنی غیر معمولی کشش سے ہماری زمین کو کھینچ رہا ہے، اور زمین ایک مرکز گریز قوت (Centrifugal Force) کے ذریعہ اس کی طرف کھنچ جانے سے اپنے آپ کو روکتی ہے۔ اس طرح وہ سورج سے دور رہ کر فضا کے اندر اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر کسی دن زمین کی یہ قوت ختم ہو جائے تو وہ تقریباً چھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھینچنا شروع ہو جائے گی، اور چند ہفتوں میں سورج کے اندر اس طرح جا گرے گی جیسے کسی بہت بڑے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page