Al-Risala · August 1984 · page 25

حیوانیت کی سطح پر

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۲۵

حیوانیت کی سطح پر

حضرت سلیمان کے زمانہ حکومت (۳۹-۹-۱۰۱۳ ق م ) میں بحر قلزم کی مشرقی شاخ کے کنارے ایلات (Elath) کے مقام پر یہودیوں کی آبادی تھی۔ انھوں نے قانون سبت کی خلاف ورزی کی۔ ان کی شریعت میں سبت (سنیچر) کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں۔ مگر وہ اس دن مچھلی کا شکار کرنے لگے۔ ۔ سنیچر کے دن مچھلیاں کثرت سے دریا میں آتی تھیں اور بقیہ دنوں میں پانی کے نیچے چلی جاتی تھیں۔ یہود نے یہ شرعی تدبیر کی کہ دریا کے کنارے گڑھے بنائے۔ وہ دریا کا پانی کاٹ کر گڑھے میں ملا دیتے ۔ سینچر کے دن جب مچھلیاں گڑھے میں آجاتیں تو وہ نکلنے کا راستہ بند کر دیتے ۔ اگلے دن اتوار کو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ تدبیر وہ اس لئے کرتے تھے تاکہ ان پر یہ بات صادق نہ آئے کہ وہ سبت کے دن شکار کرتے ہیں۔ دین کے نام پر یہ بے دینی اللہ کو اتنی زیادہ ناپسند ہوئی کہ ان پر اللہ کی لعنت ہوئی۔ وہ بندر اور سور بنا دیئے گئے ( مائدہ (۶۰) عملاً یہی حالت اگرچہ پوری قوم یہود کی تھی ، تاہم ایک خاص مقام کے یہودیوں کے باطن کو غالباً ظاہری طور پر بھی مجسم کر دیا گیا تاکہ دوسروں کے لئے عبرت ہو ( بقرہ (۶۶) بندر اور سور بنانے سے کیا مراد ہے ، اس بارہ میں مفسرین کی دو رائیں ہیں۔ اکثریت نے ظاہر الفاظ پر قیاس کرتے ہوئے یہ مراد لیا ہے کہ مذکورہ گروہ حقیقی معنوں میں بندر اور سور بنا دئے گئے ۔ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے ، اس سے کوئی واضح بات ثابت نہیں ۔ حدیث میں صرف اتنا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ موجودہ بندر اور سور کیاقدیم مسخ شدہ اقوام کی نسلیں ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہ حیوانات ہمیشہ سے اسی طرح ہیں ( تفسیر ابن کثیر ، الجزء الثانی مجاہد کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ بندر کی صورت میں تبدیل نہیں کئے گئے بلکہ ان کے دل مسخ کر دئے گئے ( قال مسخت قلوبهم ولم يمسخوا قردة - وانما هو مثل ضربه الله : كمثل الحمار يحمل اسفارا ) ابو العالیہ کا قول ہے کہ کونوا قردة خاسئین سے مراد یہ ہے کہ وہ پست اور حقیر بنا دئے گئے ( یعنی اذلة صاغرين ) یہی رائے قتادہ اور ربیع اور ابو مالک کی بھی ہے ( تفسیر ابن کثیر ، الجز ء الاول ، صفحہ ۱۰۶ - ۱۰۵) موجودہ زمانہ کے مفسرین میں شیخ رشید رضا نے بھی اس کو اختیار کیا ہے ( المنار )

سور کی خصوصیت کیا ہے۔ ستھری چیز کو چھوڑ کر ، گندی چیز کو اپنی خوراک بنانا، اس کی ایک صورت وہ ہے جو کمائی اور لین دین میں ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی حلال ذرائع پر قانع نہ رہ کر حرام سے اپنا پیٹ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page