Al-Risala · August 1984 · page 46

حیوانیت کی سطح پر

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۴۶

بھرنے لگتا ہے (مائدہ۔ ٦٣)۔ دوسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : اگر وہ ہدایت کار استہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ بنالیں (اعراف146)

ایسے لوگوں کا حال ہو جاتا ہے کہ وہ مثبت چیزوں کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں، ان کو اصلاح کے کاموں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ البتہ ایسے کاموں کی طرف وہ تیزی سے لپکتے ہیں جن کا نتیجہ نسلوں اور کھیتیوں کی ہلاکت ہو۔

ان کے سامنے تعمیری کام کے مواقع کھلے ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کو چھوڑ کر تخریب کے راستوں میں تیزی دکھاتے ہیں۔ ابنائے نوع کے لئے نفع بخش بننے کا شوق ان میں نہیں ابھرتا۔ البتہ ان کو نقصان پہنچانے کے نعرہ پر وہ بآسانی جمع ہو جاتے ہیں۔ خاموش خدمت میں ان کے لئے اپیل نہیں ہوتی البتہ نمائشی ہنگاموں میں وہ خوب دل چسپی دکھاتے ہیں۔ حقیقی فائدہ کے منصوبوں میں ان کے لئے کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ بے فائدہ مشغلوں میں وہ اپنا وقت اور مال خوب خرچ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلائیے تو وہ لبیک نہ کہیں گے البتہ یہ زندہ یا مردہ شخصیتوں کی پوجا کے نام پر وہ جوق در جوق اکٹھا ہو جائیں گے۔

بے دینی کو دین کے نام پر کرنا بدترین جرم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر سے صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ ایک بے حس انسان بن جاتا ہے۔ دین اور بے دینی دونوں اس کو یکساں دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ نوبت آتی ہے جب کہ اس میں بندر اور سور کی اخلاقیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بندر کی خصوصیت کیا ہے۔ فساد اور بے حیائی۔ کسی مکان میں بندروں کا غول داخل ہو جائے تو وہ فوراً بے معنی اچھل کود اور توڑ پھوڑ شروع کر دے گا۔ ایسا ہی کچھ حال اس قوم کا ہو جاتا ہے۔ وہ زبان سے خدا کا انکار نہیں کرتی۔ تاہم عملاًوہ خدا کی زمین پر اس طرح رہنے لگتی ہے جیسے اس زمین کا کوئی مالک نہیں ہے۔ جیسے نہ کبھی خدا سے اس کا سامنا ہونا ہے اور نہ اپنے کئے کا حساب دینا ہے۔ ــــــــ بدنظمی، غیر ذمہ دارانہ زندگی، بے معنی کارروائیاں، آپس کی چھین جھپٹ، ایک دوسرے پر غراانا، ہمدردی اور انصاف کے بجائے ظلم و فساد کو اپنا شیوہ بنا لینا، یہ اس کی عام زندگی ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ بظاہر انسان مگر عملاً بندر صفت ہو جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کی آبادی میں اس طرح رہنے لگتے ہیں جیسے بندر جنگلوں کی آبادی میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page