Al-Risala · August 1984 · page 47

یہ خوش اخلاقی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۴۷

یہ خوش اخلاقی

خوش اخلاقی کی سب سے زیادہ عام قسم وہ ہے جو بد اخلاقی کی بدترین قسم ہے۔ اس کی ایک صورت وہ ہے جس کو تاجرانہ اخلاق کہا جا سکتا ہے۔ ایک کامیاب دکاندار اپنے ہر گاہک سے انتہائی خوش اخلاقی کا معاملہ کرتا ہے۔ مگر اس خوش اخلاقی کے پیچھے ذاتی مفاد کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ دکان پر آنے والا گاہک اگر اپنا زیادہ آثار کر چندہ مانگنے والا آدمی بن جائے تو فوراً معلوم ہو جائے گا کہ دکاندار کی خوش اخلاقی کی حقیقت کیا تھی۔

خوش اخلاقی کی ایک قسم وہ ہے جس کو " تہذیب " کہا جا سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان رائج ہے۔ یہ لوگ جب باہم ملیں گے تو وہ نہایت ترشے ہوئے الفاظ میں بات کریں گے۔ ایک بے معنی رائے کو بھی خوبصورت علمی الفاظ میں بیان کریں گے۔ آتشیں موضوعات پر بھی وہ اس طرح بولیں گے جیسے کہ وہ برف کے موضوع پر بول رہے ہیں۔ اپنے مخالف سے بات کرتے ہوئے ایسا رویہ اختیار کریں گے جیسے ان کا اختلاف سراسر علمی اختلاف ہے۔ اس کو ذاتی مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ ان سب کی حقیقت مصنوعی اخلاقیات سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ان کا اول و آخر مقصد سماج میں مہذب انسان کہلایا جانا ہے نہ کہ فی الواقع اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا۔ خوش اخلاقی کی ایک اور قسم وہ ہے جو ” بڑوں“ کے یہاں پائی جاتی ہے۔ جو لوگ ان سے چھوٹے بن کر ملیں ان سے وہ پوری طرح خوش اخلاق بنے رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ مسلم طور پر بڑائی کا مقام حاصل کر چکے ہوں ان کے ساتھ بھی ان کا رویہ ہمیشہ خوش اخلاقی کا ہوتا ہے۔ مگر ان دونوں کا اخلاق سے کوئی تعلق نہیں۔ اول الذکر کے ساتھ ان کی خوش اخلاقی دراصل ان کے اس عمل کی قیمت ہوتی ہے کہ انھوں نے ان کی شکبرانہ نفسیات کے لئے غذا فراہم کی۔ ثانی الذکر کے ساتھ ان کی خوش اخلاقی اس لئے ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا عوام کی نظر میں ان کی تصویر بناتا ہے کہ وہ بھی بڑوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یہ بڑے " اس وقت اپنی خوش اخلاقی کھو دیتے ہیں جب کہ کوئی آدمی ان کی بڑائی کو چیلنج کرے، جب وہ کوئی ایسی بات کہہ دے جس سے ان کی متکبرانہ نفسیات پر زد پڑتی ہو۔ ایسے شخص کے مقابلہ میں وہ فوراً اپنا لبادہ اتار دیتے ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی اچانک بدترین بداخلاقی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page