الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ جس کا تعلق حکومت سے اور اکثریتی طبقہ سے ۔ اور دوسرا پہلو وہ جس کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ فسادات میں سیکڑوں آدمی مارے جاتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی جائدادیں لوٹی اور جلائی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے واضح طور پر یہ امن و نظم کا مسئلہ ہے۔ مگر اتنے بڑے پیمانہ پر جان و مال کا نقصان ہوتا ہے۔ اور کبھی نقصان کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ ملک کے قانون میں ان جرائم کے لئے باقاعدہ سزائیں مقرر ہیں۔ مگر یہ قانون کا غذ پر پڑا رہتا ہے اور فساد کے مجرمین پر ان کو نافذ نہیں کیا جاتا۔
جس حکومت کی نااہلی کا یہ حال ہو کہ اس کے دائرہ اختیار میں مسلسل اتنے سنگین جرائم کئے جائیں پھر بھی وہ مجرمین کو سزا دینے میں ناکام رہے، وہ ایسا کر کے خود اپنی موت کے محضر نامہ پر دستخط کر رہی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ اتنی بڑی نااہلی دکھائیں وہ ہمیشہ اقتدار سے محروم کر دئے جاتے ہیں۔ زیادہ دیر تک انتظام دنیا کے منصب پر باقی رہنا ان کے لئے مقدر نہیں۔
اکثریتی طبقہ کے پہلو سے سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ دو غیر مسلمان بازار میں لڑیں تو کبھی فساد نہیں ہوتا۔ لیکن اگر لڑنے والوں میں ایک مسلمان اور ایک غیر مسلمان ہو تو فورا فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑتا ہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ یہاں کسی معاملہ کو حق اور ناحق کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ معاملہ اپنے فرقہ کا ہے یا دوسرے فرقہ کا۔ یہ مزاج کسی گروہ کے لئے قاتل ہے۔ قانون قدرت کے مطابق اس قسم کے ظالمانہ مزاج کی سزا ضرور بھگتنی پڑتی ہے، خواہ ایک صورت میں بھگتنی پڑے یا دوسری صورت میں۔
حکومت میں یا اکثریتی فرقہ میں اگر کچھ ایسے لوگ ہوں جو یہ سمجھتے ہوں کہ وہ اس طرح مسلمانوں کو مٹا دیں گے تو یقینی طور پر اس سے زیادہ بڑی بھول اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دس کروڑ ہے۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں کہ اتنی بڑی تعداد کو ظلم و فساد کے ذریعہ مٹا دیا گیا ہو۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے فساد مسلمانوں کی زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔ کیوں کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں دینے کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues