الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۵
اور زیادہ ابھرنے کا اصول رائج ہے۔ ان تخریب کاروں کی بدقسمتی یہ ہے کہ قانون قدرت ان کی راہ میں حائل ہے۔
آرنلڈ ٹوائن بی نے اپنی کتاب (اسٹڈی آف ہسٹری میں دنیا کی ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ تہذیبوں کو وجود میں لانے والی ہمیشہ وہ قومیں تھیں جو شکست اور محرومی سے دوچار کی گئیں (مثال کے طور پر مغرب کی مسیحی قومیں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کے بعد جدید صنعتی تہذیب کی خالق بنیں ) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو محرومی اور شکست میں مبتلا کر کے ان کے خاتمہ کا خواب دیکھ رہے بیس وہ ایک ایسے نتیجہ کا انتظار کر رہے ہیں جو قانون قدرت کے مطابق ان کے اندازوں کے سراسر خلاف بالکل برعکس صورت میں ظاہر ہونے والا ہے۔
تاہم زیر نظر مجموعہ میں ہمارا خطاب نہ حکومت سے ہے اور نہ اقلیتی فرقہ سے۔ ہمارا خطاب یہاں تمام تر مسلمانوں سے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس تمام معاملہ کا ذمہ دار صرف اپنے آپ کو قرار دیں۔ وہ خود یہ ذمہ داری لیں کہ وہ اس ناگوار صورت حال کو یک طرفہ طور پر ختم کریں گے۔ اور یقیناً یہی بہادر انسانوں کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔
فسادات کو روکنے کی جو تدبیر اس کتابچہ میں درج ہے، راقم الحروف اس کو پچھلے ہیں سال سے پیش کر رہا ہے۔ ۱۹۶۴۔ ۱۹۶۵ میں ہفت روزه ندائے ملت (لکھنؤ) کے کالموں میں ۔ ۱۹۶۷ سے ۱۹۷۴ تک ہفت روزہ الجمعیۃ (دہلی) میں اور 1976سے با قاعدہ طور پر ماہنامہ الرسالہ (نئی دہلی) میں۔ زیر نظر کتابچہ اسی ذیل کی ایک مزید کوشش ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues