یکطرفہ کارروائی کی ضرورت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۶
یکطرفہ کارروائی کی ضرورت
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا سبب، خواہ کسی سے نزدیک جو بھی ہو، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ فسادات اگر بند ہوں گے تو صرف اس وقت بند ہوں گے جب کہ مسلمان اپنے حصہ کا فساد بند کریں۔ مسلمان اپنے حصہ کا سبب ختم کرکے دوسرے کو آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے حصہ کا سبب ختم کرے۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات صرف یک طرفہ کارروائی سے بند ہو سکتے ہیں۔ اور یہ یک طرفہ کارروائی بہر حال مسلمانوں کو کرنی ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں یک طرفہ کارروائی پر راضی ہو کر قریش کی فساد انگیز یوں کا سلسلہ ختم کیا تھا۔ اسی طرح ہمیں بھی یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو پابند بنا لینا ہے۔ اگر ہم دوسرے فریق کی طرف سے بندش کی کارروائی کا انتظار کریں تو ایسا انتظار کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ مسلمان فساد کو بند کرنے کے لئے کیا کریں، اس کا جواب صرف ایک ہے ــــ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔ تمام فسادات کا مشترک سبب یہ ہے کہ مسلمان اس راز کو نہیں جانتے کہ زندگی میں کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ جس چیز کو نظر انداز نہ کرنا چاہئے اس پر مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں اور اس کا لازمی نتیجہ فساد ہوتا ہے۔
”ہندوستان“ بالفرض ”مسلمستان“ ہو تا تب بھی ہم کو یہی کرنا پڑتا۔ کچھ چیزیں ہر ماحول میں ایسی پائی جاتی ہیں جن میں الجھنے کے بجائے ان کو نظر انداز کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان سے الجھنا ان کو اور بڑھانے کے ہم معنی ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اس کے کسی حال میں بچنا ممکن نہیں۔ اسی لئے قرآن میں صبر و اعراض کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
نظر انداز کرنے کے قابل باتوں کو نظر انداز نہ کرنا، یہ وہ غلطی ہے جس میں ہندوستان کے مسلمان بھی مبتلا ہیں اور پاکستان کے مسلمان بھی۔ اس کی قیمت دونوں جگہ کے مسلمان شدید ترین صورت میں بھگت رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان فرقہ وارانہ فساد کی صورت میں اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور پاکستان کے مسلمان غیر مستحکم سیاسی نظام کی صورت میں۔
ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے فسادات کا واحد ڈاٹ ہی اعراض ہے۔ مسلمان اگر اس ڈاٹ کو استعمال کریں تو ایک دن میں تمام فسادات بند ہو جائیں۔ اور اگر مسلمان اس طریقہ پر راضی نہ ہوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues