Al-Risala · September 1984 · page 9

بنیادی بات

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۹

بنیادی بات

قرآن میں ارشاد ہوا ہے تم کو تم کو جو بھی دکھ پیش آتا ہے وہ خود تمہارے سبب سے ہوتا ہے (وما اصابك من سيئة فمن نفسك، النساء79) )، دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ خود تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے ( وما اصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم، الشوریٰ ۳۰)

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کسی کو دوسرے کے اوبر کوئی اختیار نہیں۔ یہاں ہر آدمی یا ہر گروہ خود اپنے ہی عمل کا انجام بھگتتا ہے۔ آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اس کو چاہیے کہ اس کا سبب وہ باہر نہ تلاش کرے۔ بلکہ خود اپنے اندر ڈھونڈ کر نکالے۔ کیوں کہ اس کا سبب یقینی طور پر خود اس کے اپنے اندر موجود ہوگا۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی دو واضح مثالیں موجود ہیں۔ ایک غزوہ احد (۳ھ) کی شکست اور دوسرے غزوہ حنین (۸ھ) میں پیش آنے والا زبردست نقصان۔ قرآن میں ان دونوں غزوات کا ذکر ہے اور دونوں میں یہ انداز ہے کہ اسلام دشمنوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے خود مسلمانوں پر اس کی پوری ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

احد کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ تمہاری کمزوری، تمہارا آپس کا اختلاف اور تمہارا مرکزی قیادت کی نافرمانی کرنا، یہ اسباب تھے جنھوں نے تم کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست سے دوچار کیا (آل عمران ۱۵۲) اسی طرح حنین کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ اس موقع پر کہ جس پر بادی سے سابقہ پیش آیا اس کی وجہ یہ تھی کہ تمہارے اندر گھمنڈ پیدا ہو گیا۔ یہاں بھی سبب مسلمانوں کے اپنے اندر بتایا گیا کہ ان کے باہر (التوبہ ۲۵) ان دونوں حادثات میں پوری طرح یہ ممکن تھا کہ ان کی ساری ذمہ داری قریش پر ڈالی جائے اور ان کو یک طرفہ طور پر برا بھلا کہا جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جب ان حادثات پر تبصرہ کیا تو ان کی ساری ذمہ داری صرف مسلمانوں کے اوپر ڈال دی۔ یہ مثال ہمیشہ کے لئے بتا رہی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مسلمانوں کا ذہن کیا ہونا چاہئے ۔ یہ کہ وہ دوسروں کی سازشوں کا انکشاف کرنے کے بجائے خود اپنا احتساب کریں۔ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرکے اپنے حریف کے اوپر فتح حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page