بنیادی بات
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۰
اس موضوع کی مزید وضاحت کے لئے یہاں ہم خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا ایک مکتوب نقل کرتے ہیں جو انھوں نے اپنے ایک ماتحت افسر کے نام روانہ کیا تھا: یروی ان عمر بن عبد العزيز بعث برسالة الى منصور بن غالب حين بعثه على قتال اهل الحرب جاء فيها : هذا ما عهد به عبد الله (عمر بن عبد العزيز ) امير المومنين الى منصور بن غالب حين بعثه الى قتال اهل الحرب ـ امره في ذالك بتقوى الله على كل حال نزل به من امر الله تعالى فان تقوى الله من افضل العدة وابلغ المكيدة واقوى القوة و امره الا يكون من شئ من عد و اشد احتراسا منه لنفسه ومن معه من معاصى الله فان الذنوب اخوف عندى على الناس من مكيدة عدوهم وانما نعادى عدونا وننصر عليهم بمعصيتهم ولولا ذالك لم يكن لنا قوة بهم لان عددنا ليس كعددهم ولا عداتنا كعدتهم فلو استوينا نحن وهم فى المعصية كانوا افضل منا في القوة والعد دفان لا ننصر عليهم بحقنا لا نغلهم بقوتنا ولا تتاونوا لعداوة احد من الناس احذر منكم لذنوبكم . روایت ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے منصور بن غالب کے نام ایک خط روانہ کیا جب کہ انھوں نے ان کو اہل حرب کے مقابلے کے لئے بھیجا تھا۔ اس میں لکھا کہ تم ہر حال میں تقویٰ پر قائم رہو۔ کیونکہ اللہ کا تقویٰ (ڈر) سب سے بہتر تیاری اور سب سے کامیاب تدبیر ہے اور سب سے بڑی قوت ہے۔ دشمن سے بچنے کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز اپنے گناہوں سے بچنا ہے۔ کیوں کہ گناہ میرے نزدیک دشمن کی چالوں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ہم دشمنوں پر ان کی گنہگاری کی وجہ سے کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو, ہم کو کوئی قوت ان کے اوپر نہ رہے۔ کیوں کہ ان کی تعداد اور ان کی تیاری ہم سے زیادہ ہے۔ پھر اگر ہم اور وہ دونوں گنہگاری میں برابر ہو جائیں تو وہ ہم سے طاقت اور تعداد میں برتر ہو جائیں گے۔ ایسی حالت میں, ہم اپنی موجودہ قوت کے ساتھ ان پر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اور تم کسی کی عداوت سے جتنا ڈرتے ہو اس سے بھی زیادہ خود اپنے گناہ سے ڈرو۔ خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کی ان نصیحتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کی ناکامی کا سبب ہمیشہ اس کے اپنے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر۔
بنیادی بات یہ ہے کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے نہ کہ انسان کی دنیا۔ یہاں انسان کو صرف اپنے آپ پر اختیار حاصل ہے۔ کسی بھی فرد یا قوم کو کسی دوسرے فرد یا قوم کے اوپر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملتا ہے تو وہ اس کو خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ خواہ بظاہر وہ کسی اور کے ذریعہ اسے پہنچا ہو۔ اسی طرح یہاں جب بھی کسی سے کچھ چھنتا ہے تو وہ خدا کی طرف سے چھنتا ہے ، خواہ بظاہر اس کا چھیننے والا کوئی دوسرا دکھائی دیتا ہو۔ اس لئے عقلمند وہ ہے جو دونوں حالتوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues