Al-Risala · January 1984 · page 22

معرفت کا حصول

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲

والی ندیوں، جھیلوں اور آبی مرکزوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی آبی مرکز سے ایلیں ہمیشہ کے لئے غائب نہیں ہو جاتیں۔ اور یہ سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ امریکہ کی کوئی ایل یورپ میں نہیں ملتی اور نہ یورپ کی کوئی ایل امریکہ کے سمندروں میں پائی جاتی ہے پھر آمد ورفت کی یہ معلومات انہیں کہاں سے حاصل ہوتی ہیں۔

یہ کام "وحی" کے ذریعہ ہوتا ہے۔ وحی، پیغام رسانی کے اس مخفی سلسلے کو کہتے ہیں جو خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان جاری ہے۔ کوئی مخلوق زندگی گزارنے کے لئے کیا کرے اور خالق کائنات نے اپنی مجموعی اسکیم کے اندر اس کے ذمے جو فرض عائد کیا ہے اس کو کس طرح انجام دے، اسی کو بتانے کا نام وحی ہے۔ اس وحی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کا تعلق انسان کے سوا دوسری مخلوقات سے ہے، اور دوسری وہ جس کا تعلق انسان سے ہے۔

انسان کے سوا جتنی زندہ مخلوقات اس زمین پر پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب ارادے سے خالی ہیں ۔ ان کا کام کسی سوچے سمجھے فیصلے اور ارادے کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ایک غیر شعوری قسم کے طبعی میلان کے تحت ہوتا ہے جس کو ہم جبلت (Instinct) کہتے ہیں۔ یہ گویا ایک طرح کی زندہ مشینیں ہیں جو محدود دائرے میں اپنا متعین عمل کر کے ختم ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کے جانداروں کے لئے ترک واختيار كا کوئى سوال نہیں ۔ اس لئے ان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں نہیں آئی بلکہ جبلت یا عادت فطری کی شکل میں آتی ہے۔ ان کی ساخت اس طرز کی بنا دی جاتی ہے کہ وہ ایک مخصوص کام کو بار بار دہراتے رہیں۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فیصلے کی قوت رکھتا ہے۔

وہ اپنے ارادے سے کسی کام کو کرتا ہے اور کسی کو نہیں کرتا۔ وہ ایک کام کرنا شروع کرتا ہے، پھر اسے بالقصد چھوڑ دیتا ہے اور ایک کام کو نہیں کرتا اور بعد کو اسے کرنے لگتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انسان بھی اگرچہ اسی طرح خدا کا بندہ ہے جس طرح اس کی دوسری مخلوقات، مگر اس کو حالت امتحان میں رکھا گیا ہے۔ جو کام دوسری مخلوقات سے عادتِ فطرت کے تحت لیا جا رہا ہے انسان کو وہی کام اپنے فیصلے اور ارادے سے کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں عام حیوانات کی وحی ان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی ہے ۔ اور انسان کی وحی خارج سے اسے سنائی جاتی ہے۔ عام حیوانات کو کیا کرنا ہے اس کا علم وہ پیدائشی طور پر اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ اس کے برعکس انسان

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page