وحی کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۳
جب عقل اور ہوش کی عمر کو پہنچتا ہے تو خدا کی طرف سے پکار کر اسے بتایا جاتا ہے کہ تم کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔
اس پیغام رسانی کا ذریعہ رسالت ہے۔ جو شخص یہ پیغام لے کر آتا ہے اس کو ہم رسول کہتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ایک نیک بندے کو چن لیتا ہے اور اس کے قلب پر اپنا پیغام اتارتا ہے۔ اس طرح وہ شخص براہ راست خدا سے اس کی مرضی کا علم حاصل کرکے دوسرے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ رسول گویا وہ درمیانی کڑی ہے جو بندے کو اس کے خدا سے جوڑتی ہے۔
وحی کا مسئلہ
اب ہمیں اس سوال پر غور کرنا ہے کہ کسی بندہ خاص پر خدا کی وحی کس طرح آتی ہے اور یہ کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی وحی ہے جس سے ہمیں خدا کی مرضی کا علم حاصل ہوگا۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے، انسان نے جو مشینیں اور جو آلات بنائے ہیں وہ تقریباً سب کے سب لوہے کے ہیں۔ اگر لوہے کی تاریخ سامنے رکھی جائے تو یہ بات نہایت عجیب معلوم ہوگی کہ انسان نے کس طرح اس کو دریافت کیا، جبکہ انسان کو لوہے کے متعلق پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔ اس نے کس طرح اس کے ذرات کو یکجا کیا جو مختلف مرکبات کی شکل میں زمین کی مختلف چٹانوں کے ساتھ مخلوط ہو کر منتشر پڑے تھے ۔ اور پھر انہیں خالص لوہے کی ٹھوس شکل میں تبدیل کیا۔
یہی حال دوسری ایجادات کا بھی ہے۔ یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی کہ ان ایجادات کی طرف انسانی ذہن کی رہنمائی کس طرح ہوئی۔ وہ کون سی قوت ہے جو تجربہ اور مشاہدہ کے دوران ایک سائنس داں کو اس مخصوص نکتے تک پہنچا دیتی ہے جہاں پہنچ کر اسے ایک مفید اور کارآمد نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ جو بات ہم کو معلوم نہیں تھی وہ کیسے معلوم ہوگئی۔ اس علم کا ذریعہ وہی خدائی فیضان ہے جس کو ہم وحی کہتے ہیں۔ سب کچھ جاننے والا اپنے علم میں سے تھوڑا سا حصہ اس کو عطا کر دیتا ہے جو کچھ نہیں جانتا۔
یہ فیضان وحی کا ابتدائی درجہ ہے جو غیر محسوس طور پر آتا ہے اور ہر شخص کو اس میں سے حصہ ملتا ہے۔ وحی کی دوسری قسم زیادہ ترقی یافتہ ہے، جو شعوری طور پر آتی ہے اور صرف ان لوگوں کے پاس آتی ہے جن کو رسالت کے لئے منتخب کر لیا گیا ہو۔ انسان کے پاس
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues