بال ٹھاکرے کا انٹرویو
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴
کی شان میں گستاخی کی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ الزام سراسر غلط تھا۔ بال ٹھاکرے نے ایسی بات سرے سے کہی نہیں۔
شیو سینا کا لیڈر بمبئی میں موجود تھا۔ مگر نہ مسلمانوں کا کوئی وفد فساد سے پہلے اس سے تحقیق کی غرض سے ملا۔ نہ کسی نے ٹیلیفون کر کے دریافت کیا۔ مسلمانوں کے وہ نام نہاد لیڈر جو فساد کے بعد خوب متحرک ہو جاتے ہیں وہ فسا د سے پہلے اس کی تحقیق کے لئے بالکل متحرک نہیں ہوئے۔ جو ہوا وہ صرف یہ کہ بمبئی کی یہ خبر بنگلور کے ایک اردو اخبار میں شائع ہوئی جو سستی صحافت اور سنسنی خیزی کے لئے مشہور ہے۔ بس اس کا اردو اخبار میں چھپنا تھا کہ مسلمانوں نے اس کو بڑھا چڑھا کر نقل کرنا شروع کر دیا اور چند دنوں کے اندر یہ فضا اس قدر گرم ہو گئی جس کا دوسرا نتیجہ لازماً فساد تھا۔
بال ٹھاکرے کا انٹرویو
فساد کے بعد د ہلی کے انگریزی میگزین لنک (LINK) کے نمائندے نے مسٹر بال ٹھاکرے سے ملاقات کی اور ان سے ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیپ کی مدد سے میگزین مذکور کی ۳ جون ۱۹۸۲ کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ اس انٹرویو کا ضروری حصہ یہاں ایک صفحہ پر اصل الفاظ میں دیا جا رہا ہے۔ اس انٹرویو میں مسٹر بال ٹھاکرے نے مذکورہ دونوں الزامات کی صحت سے قطعی انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر غلط ہے کہ میں نے قرآن کو بندکرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس سے بھی انکار کیا کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کی شان میں تو ہین آمیز کلمات کہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تقریر کا مکمل ٹیپ موجود ہے۔ کوئی بھی شخص اس کو سن سکتا ہے۔
مسٹر بال ٹھاکرے نے بتایا کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف کوئی بات نہیں کہی۔ اس کے برعکس میں نے پیغمبر صاحب کی تعریف کی اور ان کا ایک واقعہ بیان کیا۔
اس موقع پر مسٹر ٹھاکرے نے جو بات کہی وہ ان کے الفاظ میں یہ تھی ۔ ۔ میری تقریر کا ٹیپ موجود ہے ۔ اس میں ایک لفظ بھی پیغمبر اسلام کے خلاف نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان کی ایک مثال پیش کی تھی۔ وہ یہ کہ ایک بار پیغمبر صاحب اپنے شاگردوں کے ساتھ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک ہندو وہاں آیا اور مسجد کی ایک دیوار پر تھوک دیا۔ شاگرد چلائے کہ ”مارو مارو“ مگر پیغمبر صاحب نے ان کو غصہ ہونے سے روکا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بالٹی پانی لے کر دھو دیا۔ ہندو یہ دیکھ کر شرمندہ ہوا ۔ پیغمبر صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ دیکھو ، یہ طریقہ ہے جس کے ذریعے سے ہمیں لوگوں کے اوپر فتح حاصل کرنا چاہئے۔ مگر آج مسلمانوں میں اس قسم کی برداشت کہاں ہے۔ “
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues