Al-Risala · September 1984 · page 13

فساد کا جائزہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۳

ان کو سبز جھنڈوں سے پاٹنے کے لئے ان کا اسلامی جوش ابھر آیا۔ جھنڈے کا جا دبیہاں تک پہنچا کہ پر جوش مسلمانوں نے بھیونڈی میں شیو سینا کے دفتر کی عمارت سے اس کا جھنڈا اتار دیا اور وہاں سبز جھنڈا( اسلامی جھنڈا) لہرادیا۔

اسی اشتعال کی فضا میں شیو سینا کے لیڈروں نے ۱۶ مئی ۱۹۸۴ء کو ”بمبئی بندھ منایا۔ بمبئی بندھ نے اشتعال کو آخری حد تک پہنچا دیا اور ۷ مئی ۱۹۸۴ء کو بھیونڈی میں فساد پھوٹ پڑا جو بالآخر تھانہ اور بمبئی وغیرہ کے علاقوں تک پھیل گیا (ضمیمہ ٹائمس آف انڈیا 3جون 1984 اور دوسرے اخبارات) یہ فساد اتنا شدید تر تھا کہ اندازہ ہے کہ چند دنوں کے اندر یک ارب روپیہ سے بھی زیادہ کا مالی نقصان ہو گیا۔ جانی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ وہ صرف اس وقت رکا جب فوج نے فوج نے اگر مداخلت کی۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس فساد کا نقصان زیادہ نر یک طرفہ تھا۔ حدیث میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایسا اقدام نہیں کرتا جس سے نمٹنے کی اس کے اندر طاقت نہ ہو اور بالآخر خود ذلیل ہونا پڑے (لیس للمومن ان يذ ل نفسه ، اى يعرضها من البلاء مالا طاقة له بہٖ) مگر یہاں مسلمانوں نے ایسا اقدام کیا جس میں وہ چھری کے مقابلہ میں خربوزہ ثابت ہوئے۔ جو مسلمان اس قسم کے غیر مسلمانہ افعال میں مبتلا ہوں، سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی اسلامیت کو کس خانہ میں رکھا جائے۔

فساد کا جائزہ

اس فساد کا جائزہ لینے کے دو طریقے ہیں۔ ایک قومی طریقہ اور دوسرا اسلامی طریقہ۔ قومی طریقہ وہی ہے جس کا مظاہرہ مسلمانوں کے تمام اصاغر و اکابر ایسے مواقع پر کرتے ہیں اور اس بار بھی کر رہے ہیں۔ اس حادثہ کے بعد مسلمانوں کی تمام زبانیں ایک ہی بات بول رہی ہیں اور ان کے تمام قلم ایک ہی بات لکھ رہے ہیں۔ اور وہ ہے شیو سینا کو دیا انتظامیہ کو، ایک طرفہ طور پر تمام بر بادیوں کا ذمہ دار قرار دینا۔ قومی طریقہ یہ نہیں دیکھتا کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ وہ صرف اپنی قوم اور غیر قوم دیکھتا ہے۔ اور جب بھی اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اپنی قوم کا ساتھ دیتے ہوئے دوسری قوم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کو حدیث میں عصبیت کہا گیا ہے اور عصبیت سراسر باطل ہے۔

دوسرا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کا طریقہ اصولی ہے نہ کہ قومی۔ اسلامی طریقہ کو جب ہم اس واقعہ پر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی شکایت تھی جس پر برہم ہو کر مسلمانوں نے ہنگامہ کیا اور شیو سینا کے لیڈر کی مورت بنا کر اس کو پرانے چپلوں کا ہار پہنایا۔ وہ شکایت مسلمانوں کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ شیو سینا کے لیڈر نے قرآن کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور پیغمبر اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page