Al-Risala · September 1984 · page 19

قرآنی حل

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۹

قرآنی حل

آج ہر مسلمان قرآن کے فضائل سے واقف ہے ۔ مگر لوگ صرف فضائل تلاوت سے واقف ہیں ۔ فضائل اتباع سے کوئی واقف نہیں ۔ حالاں کہ قرآن کے سب سے زیادہ فضائل و کمالات وہ ہیں جو قرآن کے اتباع میں چھپے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام مسائل کا حل قرآن میں موجود ہے۔ مگر یہ حل اسی کے لئے کار آمد ہے جو کسی تحفظ ذہنی کے بغیر اس کو اختیار کرنے پر راضی ہو۔

یہاں قرآن سے متعلق چند حدیثیں نقل کی جاتی ہیں :

عن عثمان بن عفان قال قال رسول اللہ صلی اللہ حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم: خیر کم من تعلم القرآن وعلہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ( رواہ البخاری ) ہے جو قرآن کو سیکھے اور اس کو سکھائے۔

عن عمر بن الخطاب ان النبی صلی اللہ علیہ وسلّم حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ قال : ان اللہ يرفع بهذا الكتاب اقواما ويضع به صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس کتاب (قرآن) آخرين (رواہ مسلم) کے ذریعہ کچھ لوگوں کو بلند کرے گا اور کچھ دوسرے لوگوں کو اس کے ذریعہ سے گرائے گا۔

عن عبد الله بن عمر قال، نزل جبرئيل عليه حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ حضرت جبریل رسول السلام على عهد رسول اللہ صلی الله عليه وسلم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آئے۔ انھوں نے آپ فاخبره انها ستكون فتن قال فما المخرج منها کو بتایا کہ عنقریب فتنے اٹھیں گے ۔ آپ نے فرمایا کہ اے يا جبريل ۔ قال کتاب الله ، فيه نبأ ما قبلکم ونبأ جبریل! پھر اس سے نکلنے کی صورت کیا ہے۔ انھوں نے کہا ما هو كائن بعدکم ۔ و هو الشفاء النافع - عصمة کہ خدا کی کتاب۔ اس میں پہلے کی خبریں ہیں اور لمن تمسك به ونجاة لمن اتبعه ۔ جو بعد کو ہونے والا ہے اس کی بھی خبریں ہیں۔ وہ (جامع الاصول فی احادیث الرسول نفع بخش شفا ہے جو اس کو پکڑے اس کے لئے حفاظت الجزء الثامن، صفحه ۴۴۲ ) ہے اور جو اس کی پیروی کرے اس کے لئے نجات ہے۔

اس قسم کی احادیث بتاتی ہیں کہ ہر مسئلہ جو مسلمانوں کے لئے کسی بھی زمانہ میں یا کسی بھی حالات میں پیدا ہو، اس کا یقینی حل یہ ہے کہ قرآن کی پیروی کی جائے ۔ قرآن کے حکم پر چلنے میں مسلمانوں کے لئے حفاظت کا سامان ہے اور ہر فتنہ سے ان کے لئے نجات کی ضمانت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page