Al-Risala · September 1984 · page 20

۱۔ خبر کی تحقیق

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰

اس سلسلے میں جب ہم قرآن پر غور کرتے ہیں تو اس میں ہم کو یہ اصولی اور بنیادی رہنمائی ملتی ہے کہ ــــــ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ۔ تم جواب دینے کا وہ طریقہ اختیار کرو جو بہتر ہو۔ پھر یکا یک تمہارا دشمن ایسا ہو جائے گا جیسے کہ وہ تمہارا قریبی دوست ہو (حم سجدہ 34)

اس آیت کی تشریح میں حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا ؛

امر الله المؤمنين بالصبر عند الغضب والحلم اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں ۔ عند الجهل والعفو عند الاساءة ۔ فاذ وہ جہالت کے موقع پر برداشت کریں اور برائی کے موقع فعلوا ذالك عصمهم الله من الشيطان پر معاف کردیں ۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو وخضع لهم عداوهم كأنه ولى حميم شیطان سے بچالے گا اور ان کے دشمن کو جھکاکر اس کو (تفسیر ابن کثیر) ان کے دوست کے مانند کردے گا۔

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں :

ادفع بحلمك من يجهل عليك جو شخص تمہارے ساتھ جہالت کرے، اس کی جہالت (تفسیر قرطبی) کا مقابلہ تم برداشت سے کرو۔

مذکورہ آیت میں زندگی کا جو اصول ملتا ہے وہی فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کا حل بھی ہے یعنی ردعمل کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے مثبت تدبیر والا طریقہ اختیار کرنا۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں جو اس مسئلہ کو ختم کر سکتی ہو۔ دوسری تدبیروں سے اگروہ ختم ہونے والا ہوتا تو اب تک ختم ہوچکا ہوتا۔ کیوں کہ پچھلی طویل مدت میں وہ بہت بڑے پیمانہ پر آزمائی جاچکی ہیں اور سراسر ناکام رہی ہیں۔

فساد کے مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ ہم قومی طرز فکر کو چھوڑ دیں اور قرآنی طرز فکر کو اختیار کریں۔ مسلمان تلاوت قرآن کے فضائل سے خوب واقف ہیں مگر وہ اطاعت قرآن کے فضائل کو نہیں جانتے۔ قرآن کے احکام دراصل فطرت کے وہ قوانین ہیں جن پر خدا نے اپنی دنیا کا نظام قائم کیا ہے، انھیں قوانین کو اختیار کر کے کائنات کا نظام درست طور پر چل رہا ہے اور انھیں کو اختیار کرنے پر ہماری زندگی کا نظام بھی درست طور پر چل سکتا ہے۔ مذکورہ بنیادی حکم کی روشنی میں غور کیا جائے تو اس سلسلے میں قرآن سے چند خاص اصول اخذ ہوتے ہیں :

۱۔ خبر کی تحقیق

قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تمھیں کوئی خبر ملے تو اس کی تحقیق کرو (ان جاءکم فاسق بنبا)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page