Al-Risala · September 1984 · page 21

۲۔ لغویت سے اعراض

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱

فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين) بھيونڈی اور بمبئی کے علاقہ کے مسلمانوں نے اگر قرآن کے اس حکم پر عمل کیا ہوتا تو یقیناً وہ اس فساد سے بچ جاتے جس میں کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک ارب روپیہ کا نقصان ہو سکا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی خبر سننے کے بعد اگر وہ اس کی باقاعدہ تحقیق کرتے تو انمیں معلوم ہوتا کہ یہ خبر سرے سے غلط ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں میں وہ اشتعال پیدا نہ ہوتا جس کے ردعمل میں مذکورہ فساد ہوا ۔

۲۔ لغویت سے اعراض

اسی طرح قرآن میں اہل ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں (والذین هم عن اللغو معرضون)، اس آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہئے کہ جب نادان لوگ کوئی جہالت کریں یا کوئی اشتعال انگیز بات کریں تو وہ اس پر بر افروختہ نہ ہوں بلکہ اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ مسلمان اگر اس قرآنی حکم (اعراض) کو اختیار کر لیں تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں تمام فسادات کی جڑ کٹ جائے۔ کیوں کہ بیشتر فسادات کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ نادانوں کی خرافات پر اعراض نہیں کر پاتے۔ وہ فوراً مشتعل ہو کر ان سے لڑنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے رمضان (جون ۱۹۸۳) میں مالیگاؤں کا فساد یقینی طور پر نہ ہوتا اگر مسلمانوں نے اعراض کا طریقہ اختیار کیا ہوتا۔ جیسا کہ معلوم ہے ، اس فساد کا آغاز اس طرح ہوا کہ روزہ کے دن ہیں شام کو غیر مسلموں نے کسی وجہ سے پٹاخہ چھوڑا۔ کچھ مسلمان جو قریب کی مسجد میں افطار کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے سمجھا کہ یہ افطار کے اعلان کا گولاہے۔ انھوں نے افطار کر لیا۔ بعد کو جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ غیر مسلموں کا پٹاخہ تھا اور انھوں نے وقت سے پہلے افطار کر لیا تو وہ مسجد سے نکل کر غیر مسلموں سے لڑنے لگے۔ اس کا نتیجہ مالیگاؤں میں ہولناک فساد تھا۔ حالانکہ قرآن کی رو سے یہ قطعی طور پر ایسا واقعہ تھا جس سے انھیں اعراض کرنا چاہئے تھا۔

۳۔ حمیت جاہلیہ نہیں

قرآن میں معاہدہ حدیبیہ کے واقعہ کے ضمن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہل کفر نے حب حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ کیا تو اہل ایمان نے اس کے جواب میں حمیت جاہلیہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ وہ تقویٰ کی روش پر قائم رہے۔ (الفتح ۲۶) اہل ایمان کی طرف سے جوابی حمیت کا طریقہ اختیار نہ کرنے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ حدیبیہ کا معاہدہ ہوا جس کو خدا نے فتح مبین فرمایا اور جس کے صرف دو سال بعد عرب فتح ہو گیا۔

مسلمان اگر اس آیت پر عمل کریں تو اچانک ان کی تاریخ بالکل دوسرا رخ اختیار کر لے۔ نیز فسادات کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے ۔ فریق وارانہ فساد کی وجہ اکثر حالات میں یہی ہوتی ہے کہ فرقہ ثانی کی حمیت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page