قول میں کچھ، عمل میں کچھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۳
قول میں کچھ، عمل میں کچھ
ہندوستان کے سیاسی لیڈر اور حکمراں ہمیشہ " دستور ہند " کا قصیدہ پڑھتے ہیں۔ مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو وہ اس کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ دستور کی تعریف کرنا ہوا تو وہ اس کے حوالہ سے سماجی برابری کے خوبصورت الفاظ بولیں گے۔ مگر عملی معاملات میں وہ نابرابری کا سلوک کریں گے۔ دستور کے دفعات کی تشریح میں وہ شاندار طور پر اس کے سیکولر کردار کا تذکرہ کریں گے مگر عمل کے پہلے ہی موقع پر سیکولر ازم کو چھوڑ کر قومی جانب داری کا رویہ اختیار کر لیں گے۔ یا دستور ہند صرف فخر کرنے کے لئے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لئے۔
ٹھیک یہی حال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ مسلمان اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسلامی تعلیمات کی عظمت کا قصیدہ پڑھتے ہیں مگر عمل کے وقت وہ جس چیز پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا ذاتی مفاد یا ان کی قومی خواہشیں ہوتی ہیں نہ کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات۔ یہی حال آج اصاغر امت کا بھی ہے اور یہی حال اکابر امت کا بھی۔
مسلمان جب اسلام کے عقیدہ توحید پر بولیں گے تو شاندار الفاظ کا دریا بہا دیں گے۔ وہ بتائیں گے کہ اسلام میں ایک خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کی گنجائش نہیں۔ مگر عملاً قوم کی قوم کا یہ حال ہے کہ وہ غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا ہے۔ کوئی کسی بزرگ کی پرستش کر رہا ہے اور کوئی کسی مفکر کی۔ کوئی کسی زندہ شخصیت کو مقدس سمجھے ہوئے ہے اور کوئی کسی مردہ شخصیت کو۔ انسانی عظمت کے تذکروں سے تمام مجلسیں گو گونج رہی ہیں مگر خدا کی عظمت کا تذکرہ کہیں سنائی نہیں دیتا۔ گویا " توحید " صرف اس لئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے دوسری قوموں پر اپنی نظریاتی برتری ظاہر کر کے فخر کیا جائے۔ جہاں تک عمل کا تعلق ہے تو مسلمانوں کی عملی حالت بھی تقریباً وہی ہے جو دوسری قوموں کی۔
اسی طرح ہمارے ادیب اور خطیب پرجوش طور پر بیان کریں گے کہ اسلام کے نزدیک خدا بھی ایک ہے اور کتاب بھی ایک اور انسان بھی ایک۔ آفاقی وحدت سے کم کوئی چیز ان کو اسلام کی عظمت گھٹانے کے ہم معنی معلوم ہوگی۔ وہ کہیں گے کہ ہم ایسی صاف اور واضح شریعت کے حامل ہیں جس کی راتیں بھی اس کے دنوں کے مانند روشن ہیں (لیلها كنهارها )
بذات خود یہ باتیں یقیناً صحیح ہیں۔ مگر مسلمانوں کے لئے اب وہ صرف کہنے کی باتیں رہ گئی ہیں۔ ان کا عمل دیکھتے تو ہر ایک سراسر اس کے خلاف عمل کرتا ہو نظر آئے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آج جتنا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues