قول میں کچھ، عمل میں کچھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴
زیادہ اختلاف اور انتشار میں مبتلا ہیں، دنیا کی کوئی قوم اتنے زیادہ اختلاف اور انتشار میں مبتلا نہیں مسلمانوں کی حالت دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ان کے درمیان کوئی مشترک چیز موجود ہی نہیں۔ جیسے کوئی واحد بنیاد ہی نہیں جس پر ان کو متحد کیا جاسکے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کی وحدت کا لفظ آج مسلمان صرف دوسری قوموں کے مقابلہ میں اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے بولتے ہیں۔ اسلام اب ان کے لیے صرف فخر کرنے کی چیز ہے نہ کہ عمل کرنے کی چیز۔
یہی حال آج مسلمانوں کے تمام قومی اور اجتماعی معاملات کا ہے۔
اس کی ایک واضح مثال اسلام کی وہ تعلیم ہے جو معاہدہ حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ تمام قائدین اور مفکرین کا یہ حال ہے کہ جب وہ رسول کی سیرت یا قرآن کی تعلیم پر بولتے ہیں تو وہ معاہدہ حدیبیہ کی صابرانہ پالیسی کو زور و شور کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ مکہ کی فتح صلح کے ذریعہ حاصل کی گئی نہ کہ جنگ کے ذریعہ۔ مگر دوسری اقوام سے موجودہ مسلمانوں کے جو جھگڑے ہیں ان میں وہ حدیبیہ کی روح کے سراسر خلاف عمل کرتے ہیں۔ ہر فائد معاہدہ حدیبیہ کی شاندار تفسیر بیان کرتا ہے۔ دوسری طرف ان قائدین اور مفکرین نے موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ جس اسلامی تعلیم کو نظر انداز کیا ہے وہ وہی ہے جس کو معاہدہ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔
بطور مثال یہاں ایک مشہور مسلم اخبار کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے اس انگریزی اخبار نے ۱۴ جولائی ۱۹۸۲ء کی اشاعت میں معاہدہ حدیبیہ پر ایک طویل مضمون شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کے ذریعہ عرب کی فتح کا دروازہ کھلا۔ مضمون کے مطابق، معاہدہ حدیبیہ کا خلاصہ یہ تھا کہ مخالف فریق کی ہر قسم کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو رد عمل سے بچایا جائے، اور ٹکراؤ کو نظر انداز (Avoid) کرتے ہوئے اپنی مثبت تعمیر کے ذریعہ کامیابی حاصل کی جائے یہاں اخبار کے مذکورہ مضمون کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ حدیبیہ کے واقعات بیان کرنے ہوئے مضمون نگار لکھتے ہیں :
During this period, while negotiations were on, the Quraish continued with their efforts in different ways to provoke Muslims to start a fight but the companions all through exercised great self-restraint as directed by their leader and refused to fall into any trap. Once a group of around fifty stealthily approached the camp of Muslims in the night and started pelting stones. Companions of the Prophet who had al- ready been cautioned against reacting to such provocations, kept their cool and simply rounded up them all and produced them before the Prophet who simply let them go. (p. 19)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues