Al-Risala · September 1984 · page 26

قول میں کچھ، عمل میں کچھ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶

کا جواب لفظ سے بھی مت دو، مگر اخبار مذکور کے مطابق مسلمان اگر لفظ کا جواب چیل سے دیں تب بھی وہ بالکل حق بجانب ہیں ، کیوں کہ وہ اشتعال دلانے کے بعد مشتعل ہوئے ہیں !

یہ کسی ایک اخبار کی بات نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام صحافت و قیادت اسی تضاد میں مبتلا ہے۔ اور یہی وہ تضاد ہے جس نے ہماری تمام کوششوں کو بے نتیجہ بنا دیا ہے۔ جب اسلام پر لکھنا یا بولنا ہو تو ہمارا ہر لیڈر اسلام کے حق میں شاندار قصیدہ پیش کرتا ہے مگر جب عملی انطباق کا وقت آتا ہے تو وہ فوراً وہی کرنے لگتا ہے جو قومی خواہشات کا تقاضا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اب مسلمانوں کا ” دین“ نہیں رہا ہے بلکہ وہ صرف ان کے قومی فخر کا عنوان ہے۔ عمل کے وقت ان کی رہنما ان کی خواہشیں ہوتی ہیں ، البتہ جب اظہار فخر کا موقع ہو تو وہ اسلام کی شان میں قصیدہ پڑھ کر اپنی برتری کے جذبات کو تسکین دے لیتے ہیں۔

گویا یہاں مسلم لیڈروں کا کیس وہی ہے جو غیر مسلموں کی مثال میں نظر آتا ہے۔ غیر مسلم لیڈر دستور ہند کے شاندار الفاظ پر فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ایسا اور ایسا دستور ہے۔ مگر ان کا عمل اس کے سراسر خلاف ہوتا ہے۔ ٹھیک یہی مسلم لیڈروں کا حال بھی ہے۔ وہ قرآن و سنت پر شاندار قصیدہ پڑھ کر اپنے جذبات فخر کو تسکین دیتے رہتے ہیں مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو اس وقت ان کا رہنما یا ان کا ذاتی مفاد ہوتا ہے یا ان کی قومی خواہشات۔

ہمارے قائدین بلاشبہ خود فساد نہیں کرتے۔ مگر جب ان کی قوم کے جاہل افراد کی نادانی سے کہیں فساد ہو جاتا ہے تو وہ ہمیشہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے لوگوں کو قصور وار نہیں ٹھہراتے جس کی ایک مثال مذکورہ انگریزی اقتباس ہے۔ قائدین کی یہ قومی روش خود انھیں بھی فسادیوں کی فہرست میں شامل کر رہی ہے خواہ بظاہر وہ اس سے الگ دکھائی دیتے ہوں۔

لوگ خدائی مذہب کا نام لیتے ہیں، حالانکہ انھیں قومی مذہب کے سوا کسی اور چیز کی خبر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page