قول میں کچھ، عمل میں کچھ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۵
جب بات چیت ہورہی تھی تو قریش مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے تا کہ دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے مگر اصحاب رسول نے شروع سے آخر تک زبردست صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، جیسا کہ ان کے فائدے انھیں ہدایت کی تھی۔ انھوں نے ان کی کسی بھی چال میں پھنسنے سے انکار کر دیا۔ ایک بار تقریباً ۵۰ آدمیوں کا ایک گروہ چپکے سے مسلمانوں کے پڑاؤ کے پاس رات کے وقت آگیا اور پتھر مارنا شروع کیا۔ رسول کے اصحاب جن کو پہلے سے ہی چوکنا کر دیا گیا تھا کہ وہ اس قسم کی اشتعال انگیز یوں پر برانگیختہ نہ ہوں، وہ بالکل ٹھنڈے بنے رہے اور صرف یہ کیا کہ ان سب کو پکڑ کر رسول اللہ کے سامنے پیش کر دیا جنھوں نے سادہ طور پر بس ان کو رہا کر دیا (صفحہ ۱۹) معاہدہ حدیبیہ کی اس اسپرٹ کا مذکورہ مضمون میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونے کی یہی حکیمانہ پالیسی تھی جس کے ذریعے عرب میں بے مثال کامیابی حاصل کی گئی۔ مگر یہی اخبار ہے جو ملک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مسائل کے ذیل میں اس کے بالکل برعکس ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اشتعال انگیز واقعات پر مسلمانوں کے مشتعل ہو جانے کی حمایت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اخبار مذکور کی اشاعت ۹ جون ۱۹۸۴ میں بھیونڈی اور بمبئی کے علاقہ میں ہونے والے فساد پر تفصیلی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پر بمبئی کے اس واقعہ کا ذکر ہے کہ شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے کے پیغمبر کی شان میں گستاخانہ الفاظ بولنے پر ایک مسلمان ایم ایل اے مسٹر اے آر خان نے غصہ میں بھرا ہوا جلوس نکالا اور مسلمانوں نے مسٹر بال ٹھاکرے کی مورت بنا کر اس کو پرانے چپلوں کا ہار پہنایا۔ اخبار مذکور یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ احتجاج کا نہایت زیبا طریقہ تھا۔ مگر اگلے ہی نقرہ میں یہ کہہ کر اس کا جوا ز فراہم کر دیتا ہے کہ ۔ مگر ایک شخص کو یہ کہنے سے باز نہیں رکھا جا سکتا کہ اس سلسلہ میں ابتدائی اشتعال شیو سینا کے لیڈر کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا:
-the Muslims took out an angry procession on May 11 and a Muslim MLA, Mr. A.R. Khan, in his muddle headedness, garlanded an effigy of Mr. Bal Thackeray with wornout chappals. No level headed Muslim approves of the Congress-I legislator's indecent manner of protest. But one need not strain one's commonsense to conclude that the initial provocation had come from the Shiva Sena chief. مذکورہ دونوں مضامین میں واضح طور پر تضاد ہے۔ اول الذکر بیان بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سنت یہ تھی کہ فریق مخالف خواہ کتنی ہی اشتعال انگیزی کرے ہم اس پر بر افروختہ نہ ہوں، بلکہ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مثبت طرز عمل پر قائم رہیں۔ اس کے برعکس دوسرا بیان یہ کہتا ہے کہ جب اشتعال انگیزی ہوگی تو اس کا رد عمل بھی ضرور ہوگا۔ پیغمبر کی سنت تو یہ کہتی ہے کہ پتھر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues