ایک چھوڑی ہوئی سنت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۸
”سمندری قزاق“ کون ہیں۔ جنہوں نے ہمارے عبادتی سفر کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ یہ دوسرا سوال بے حد اہم تھا۔ اور بے حد دور رس نتائج کا حامل تھا۔ مگر انھوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ مزید یہ کہ بیدو سرا مسئلہ بھی اسی طرح عین دینی عمل تھا جس طرح حج کرنا ایک دینی عمل ہے۔ پہلی چیز اگر فرض ہے تو دوسری چیز سنت۔ انھوں نے فرض پر تو عمل کیا اور سنت کو چھوڑ دیا۔ موجودہ دور میں غیر مسلم اقوام کی طرف سے مسلمانوں کے لئے زبر دست مسائل پیدا ہوئے مگر اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی مسلم وفد نے تحقیق حال کے لئے ان علاقوں کا سفر کیا ہو یا ان کی خبریں فراہم کرنے کے لئے کوئی ادارہ قائم کیا گیا ہو۔
سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت تتبع اخبار ہے۔ یعنی فریقِ مخالف کی سرگرمیوں اور منصوبوں کا خاموشی سے پتہ لگانا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں جاسوسی نظام کہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کی حکومتیں اپنے جارحانہ عزائم کے لئے جاسوسی کرتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جاسوسی نظام اس لئے تھا کہ تعمیر اسلام کی راہ میں جو لوگ رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کی سرگرمیوں کا پیشگی اندازہ کیا جائے تاکہ بروقت ان کا توڑ کیا جاسکے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کے حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کے لئے نکلے تو قریش نے آپ کا پیچھا کیا۔ چنانچہ آپ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ چند میل کے فاصلہ پر جبل ثور کے ایک غار میں بیٹھ گئے اور وہاں تین دن تک چھپے رہے۔ ان دنوں کے بارہ میں جو واقعات سیرت کی کتابوں میں آتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کے صاحبزادے عبد اللہ بن ابی بکر جو نہایت ہوشیار اور سمجھ دار نوجوان تھے ، ان کے ذمہ یہ خدمت سپرد کی گئی کہ وہ دن بھر مکہ میں رہیں۔ اور خاموشی کے ساتھ قریش کی باتوں کا پتہ کرتے رہیں۔ پھر رات کو غار ثور میں آکر آپ کو قریش کے ارادوں اور ان کے منصوبوں سے مطلع کریں۔ اس طرح کر کے وہ دوبارہ اندھیرے ہی میں مکہ واپس چلے جاتے اور صبح سویرے وہاں پہنچ جاتے تاکہ وہ لوگ اس غلط فہمی میں رہیں کہ عبداللہ بن ابی بکر نے رات مکہ ہی میں گزاری ہے۔ وہ تین دن تک برابر ایسا ہی کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں ابن ہشام کے الفاظ یہ ہیں : امر عبد الله بن ابی بكر ان يتسمّع لهما مايقول الناس فيهما (عبد اللہ بن ابی بکر کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان دونوں کے لئے مکہ میں سنیں کہ لوگ ان دونوں کے بارہ میں کیا کہتے ہیں) طبرانی میں حضرت اسماء بنت ابی بکر کی ایک روایت میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues