Al-Risala · September 1984 · page 29

ایک چھوڑی ہوئی سنت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

یہ الفاظ ہیں :

وعبد اللہ بن ابی بکر يظل بمكة يتطلب الاخبار اور عبد اللہ بن ابی بکر ( دن میں ) مکہ میں رہ کر خبریں ثم ياتيهما اذا اظلم الليل فيخبرهماثم معلوم کرتے۔ پھر جب رات کی تاریکی چھا جاتی يدبلجو من عنده ما فيصبح بمكة تو وہ ان کے پاس ( غار ثور ) میں آتے اور ان کو خبریں بتاتے۔ پھر اندھیرے میں ان کے پاس سے چلے جاتے اور مکہ میں صبح کرتے ( تاکہ قریش کو خبر نہ ہوسکے )

(مزید تفصیل کے لئے : السیرۃ النبویہ لابن کثیر، جلد ۲، صفحہ ۲۳۶)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حفاظت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے۔ مگر چوں کہ آپ کے خلاف قریش کے عزائم ختم نہیں ہوئے تھے ، آپ نے ان کی خبریں لینے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔ ہجرت کے فوراً بعد جن سرايا کی روانگی کا ذکر حدیث کی کتابوں میں آتا ہے وہ زیادہ تر جاسوسی دستے تھے جو مکہ کے اطراف میں قریش کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لئے بھیجے گئے۔ چنانچہ ان دستوں کی روانگی کے وقت آپ ان کو جو ہدایت دیتے تھے اس میں اس قسم کے الفاظ ہوتے تھے : فترصد بها قريشا وتعلم لنا من اخبار هم (سیرۃ النبی لابن ہشام، الجزء الثانی، صفحہ ۲۳۹) یعنی قریش کی خبر گیری کے لئے بیٹھو اور ہم کو ان کی خبروں سے مطلع کرو۔

فریق مخالف کی تیار یوں اور اس کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کا یہ سلسلہ آخر وقت تک جاری رہا۔ جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بناتی ہے کہ ہمارے یہاں ایک مستقل شعبہ خبروں کی فراہمی کا ہونا چاہئے۔ اس قسم کا شعبہ عام غیر مسلم اقوام کے سلسلے میں بھی ضروری ہے اور ہندوستان کے مخصوص حالات میں بھی ضروری ہے۔

ہندوستان میں اس شعبہ کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے احوال کی مستقل خبر گیری کرتا رہے وہ دونوں طرف کی صحیح اطلاع فراہم کرے۔ یہ شعبہ جدید ترین ذرائع کو استعمال کر کے مکمل طور پر باخبر رہے۔ وہ تمام اسلامی مراکز کو اطلاعات فراہم کرے۔ ایک فریق کے بارے میں کوئی غلط خبر پھیلے تو فوراً اس کا سدِ توڑ کیا جائے۔ جب بھی کہیں کوئی غیر ضروری اشتعال پیدا ہو تو فوراً مسلم قیادت حرکت میں آجائے اور اس کو آخری سنگینی تک پہنچنے سے پہلے ابتدائی مرحلہ میں دفن کر دیا جائے۔ جب

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page