Al-Risala · September 1984 · page 35

سابق حاملین کتاب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵

اخلاقی کمزوریوں کی حالت میں بڑے بڑے اقدام کی للکار بلند کرنا ایک ایسی غیر سنجیدہ حرکت ہے جس کی مثال کسی پیغمبر کے یہاں موجو دنہیں۔ یہ جھوٹے قائدین کا طریقہ ہے نہ کہ سچے قائدین کا طریقہ۔ ۴۔ قوم کے اندر کمزوری پیدا ہونے کے بعد جب خدا اس پر تنبیہات بھیجے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر رجوع الی اللہ اور تضرع ( الانعام ۴۲ ) کی کیفیت پیدا ہو۔ ایسی حالت میں جو قائدین " ظالموں " کو نشانہ بنا کر ان کے خلاف یک طرفہ شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ کھڑا کریں ۔ وہ گویا خدا کی اسکیم میں خلل اندازی کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کی توجہ کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ کی طرف موڑ دینے کے مجرم ہیں ۔ جس واقعہ سے احتساب خویش کا جذبہ ابھار نا مقصود تھا اس کو وہ اس کے برعکس احتساب غیر کا جذبہ ابھارنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ جس واقعہ کا فائدہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ لوگوں کی توجہ خدا کی طرف مائل ہو اس واقعہ کو انسان کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بنارہے ہیں۔ جو قائدین ایسا کریں وہ حقیقۃ جرم کر رہے ہیں نہ کہ قوم کی رہنمائی۔ انسان کی سیرت اور رویہ یہ بتاتا ہے کہ بروسلین ایس ریڈیڈ ایدہ میں اور ہسپتال میں ڈاکٹروں کی صلاح

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page