سابق حاملین کتاب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۴
یہود حقیقت پسندی سے بہت دور ہو گئے۔ وہ حقیقی عمل کے بجائے جذباتی کارروائیوں سے نتیجہ کی امید کرنے لگے۔
عین اسی زمانہ میں خدا نے ایسے افراد اٹھائے جو بائبل کے الفاظ میں" ’’سچی نبوت کرنے والے" تھے۔ انھوں نے یہود کو حقیقت پسندی کا سبق دیا۔ ان کی اندرونی کمزوریوں سے ان کو باخبر کیا۔ ان کو بتایا کہ تم کو تمھارے جھوٹے فخر سے کچھ ملنے والا نہیں ۔ خدا کی دنیا میں حقیقی عمل کی قیمت ہے نہ کہ جھوٹے فخر اور خوش خیالیوں کی۔ مگر یہود کو ان کی باتیں پسند نہ آئیں ۔ وہ انہیں کے پیچھے چل پڑے جو ان کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے۔ اور ان کو خوش خیالیوں میں مبتلا رکھتے تھے۔ اس بنا پر وہ بار بار اپنے حریف کے خلاف ایسے اقدامات کرتے رہے جس کا نتیجہ صرف ان کی شکست اور مزید ذلت تھی۔
یہود کی تاریخ کی یہ تفصیلات بائبل کی کتاب یرمیاہ (باب ۴۷ - ۳۰) میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان تفصیلات کے مطالعے سے واضح طور پر حسب ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔
۱ ۔ دور زوال میں یہود پر بار بار جو تباہیاں آئیں ان کی مکمل ذمہ داری خود یہود پر ڈالی گئی ہے ۔ ان صفحات میں دوسری قوموں کے ظلم اور سازشوں پر ان کو برا بھلا نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ خود یہود کو نصیحت کی گئی ہے کہ یہ سب کچھ صرف اس لئے ہورہا ہے کہ تم نے اپنے خدا کو ناراض کر لیا ہے۔ یہ خداوندی تنبیہ ہے نہ کہ انسانی فساد تم سارا اہتمام اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے کرو اور پھر تمھارا کھویا ہوا مقام تمھیں دوبارہ حاصل ہو جائے گا۔ گویا موجودہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کار از خدائی قانون میں تلاش کرنا چاہئے نہ کہ انسانی سازشوں میں۔
۲ ۔ زوال کے زمانہ میں مجباہدانہ اقدام" سے صراحتہ روکا گیا ہے۔ ان کو تاکید کی گئی ہے کہ غالب قوم سے موافقت کر کے رہو۔ دوسروں سے ٹکرانے کے بجائے صرف اپنی تعمیر میں لگ جاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض حالات میں داخلی تعمیر کا نام جہاد ہوتا ہے نہ کہ خارجی اقدام کرنے کا۔
۳ ۔ تنزل کے دور میں یہود کے اندر ایسے شاعر اور خطیب پیدا ہوئے جو انھیں قومی عظمت کے ترانے سناتے اور بڑی بڑی امیدیں دلا کر انھیں استدام پر اکساتے ۔ بائبل کے الفاظ میں یہ لوگ فتنہ انگیز ہیں۔ وہ بظاہر فلاح کی باتیں کرتے ہیں مگر حقیقہ وہ ایسے راستے کی طرف بلاتے ہیں جن کا نتیجہ صرف ہلاکت ہو۔ ایسے لوگوں کو غلط قرار دیتے ہوئے بائبل میں تلقین کی گئی ہے کہ تم لوگ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو۔ اقتدار وقت سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی تعمیر واستحکام میں لگ جاؤ۔ " تم پر میں حکم چلاتا ہوں کہ تو خد تمھارے دن کو تمھارے لئے لوٹا دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues