He who likes to generalize generally lies.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷
یہ سوچنے کی بات ہے کہ یہ فرق کیسے واقع ہوا۔ اس فرق کاراز دریافت کرکے ایسا کیا جا سکتا ہے کہ محفوظ حصے کے تجربہ کو غیر محفوظ حصہ میں دہرایا جائے۔ جس طرح ایک حصہ فساد سے بچاہے اسی طرح دوسرے حصہ کو بھی فساد سے بچایا جائے۔
ہمارے تمام قائدین تعمیم (Generalization) کے جھوٹ میں مبتلا ہیں۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہ اس نازک مسئلہ کا سچا حل دریافت نہ کرسکے۔
تعمیم سے ہٹ کر خالص حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان دو ہندوستان کا نام ہے۔ اسی طرح علی گڑھ بھی دو علی گڑھ ہے اور حیدر آباد بھی دو حیدر آباد۔ ایک ملک دو ملک کیسے بنا اور ایک شہر دو شہر کیوں کر ہوگیا۔ اسی سوال کے جواب میں یہ راز چھپا ہوا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کیسے ہوتے ہیں اور کس طرح ان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
ایک مقام کے ایک حصے میں فساد ہو اور عین اسی زمانہ میں اس مقام کا دوسرا حصہ فساد سے بچا رہے تو ہم کو چاہئے کہ فساد کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے فساد نہ ہونے والے حصہ کا مطالعہ کریں اور وہاں فساد نہ ہونے کے اسباب کو جان کر اسی کو اس دوسرے حصہ میں رائج کریں جہاں فساد ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں یہی فساد کے مسئلہ کے مطالعہ کا فطری طریقہ ہے اور یہی اس مسئلہ کے حل کی آسان ترین تدبیر بھی۔ شمالی ہندوستان اور جنوبی ہندوستان میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ ”دوقومی“ سیاست سب سے زیادہ شمالی ہندوستان میں چلائی گئی۔ جب کہ جنوبی ہندوستان کا علاقہ اس قسم کی تفریقی سیاست سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شمالی ہندوستان میں فرقہ وارانہ ممکش کش کی فضا پائی جاتی ہے۔ جب کہ جنوبی ہندوستان میں اس قسم کی فضا تقریبانہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح علی گڑھ کے شہری علاقہ اور سول لائن کے علاقہ میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ شہری علاقہ میں جاہلوں کی اکثریت ہے اور سول لائن میں تمام کے تمام پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ قدیم حیدر آباد اور جدید حیدر آباد میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ جدید حیدر آباد میں سب کے سب خوش حال لوگ بستے ہیں اور قدیم حیدر آباد میں کثرت سے غریب لوگ آباد ہیں۔
اس مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کس قسم کے حالات میں فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے اور کس قسم کے حالات میں وہ نہیں ہوتا۔ اب فسادات کو ختم کرنے کی آزمودہ تدبیر یہ ہے کہ شمالی ہند میں جنوبی ہند کے مانند حالات پیدا کئے جائیں۔ مسلمان اپنی طرف سے ان تمام اسباب کو ختم کر دیں جو دونوں فرقوں میں کش کش اور تناؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً حقوق کے مطالبے، احتجاجی سیاست اور مسجد اور مندر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues