He who likes to generalize generally lies.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۸
کے جھگڑے کھڑے کرنا وغیرہ ۔ اسی طرح یہ کیا جائے کہ " قدیم شہر" کے "جدید شہر" کے حالات پیدا کئے جائیں ۔ یعنی اقلیتی فرقہ کے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعملیم یافتہ بنایا جائے ۔ ان کی اقتصادیات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں ۔ انہیں چیزوں نے ملک کے ایک حصہ میں فساد کو روک رکھا ہیں اور یہی چیزیں ملک کے دوسرے حصہ میں بھی فساد کو روک سکتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرنے کے لئے ہمیں کوئی نیا حل تلاش کرنے کی ضررورت نہیں ۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اسی آزمودہ تدبیر کو فساد زدہ علاقہ میں بھی استعمال کریں جو غیر فساد زدہ علاقہ میں آج بھی فرقہ وارانہ فساد کے خلاف ڈاٹ بنی ہوئی ہے ۔ ایک مثال یہاں میں اضافہ کروں گا کہ فساد کے مسئلہ کا مذکورہ حل ہر شخص کو معلوم ہے۔ حتی کہ ہر شخص اس وقت اسی طریقہ پر عمل کرتا ہے جب کہ اس کا اپنا مفاد خطرہ میں پڑ گیا ہو۔ مگر وہی شخص جب ملت کے اسٹیج پر آتا ہے تو اس طرح پر جوش تقریر شروع کر دیتا ہے جیسے کہ ٹکراؤ اور مقابلہ کے سوا مسائل کا کوئی حل ہی نہیں۔ اس تضاد کی سادہ سی وجہ سستی قیادت کی تلاش ہے ۔ زوال یافتہ قوم میں عمل کی طاقت نہیں ہوتی ۔ وہ بڑے بڑے الفاظ بول کر اس کے پردہ میں اپنی بے علی کو چھپاتے ہیں ۔ ایسی قوم کے اندر قیادت اور مقبولیت حاصل کرنے کا سب سے آسان راز یہ ہوتا ہے کہ شاندار الفاظ بولے جائیں ۔ شاعری اور خطابت کا دریا بہایا جائے ۔ چنانچہ ہمارے تمام قائدین اسی قسم کے نمائشی الفاظ بولنے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانا چاہتے ہیں۔ مگر یہ صرف سطحیّت ہے اور سطحی قیادت ہمیشہ قوم کے لئے بہت مہنگی پڑتی ہے ۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے : The cheaper the politician, the more he costs his country. یہاں میں، ایک مثال دوں گا ۔ ہندوستان کا ایک بین اقوامی شہرت رکھنے والا اسلامی ادارہ ہے ۔ اس ادارہ کے ذمہ داروں نے ہندوستان کی سیاست میں بزعم خود ایک قائدانہ رول ادا کیا۔ انھوں نے مسلمانوں کے مسئلہ کا یہ حل پیش کیا کہ وہ خطرہ مول لینے کی بہادری دکھائیں ۔ اور اپنے حریف کو نقصان پہنچا کر اپنے لئے زندگی کا حق وصول کریں ۔ انھوں نے کہا کہ قوموں کو کبھی یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کو سبق سکھانے کے لئے اپنی اہلیت ضر کا ثبوت دیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہی کرنا ہے۔ مسلمان جب تک یہ نہ دکھائیں کہ وہ نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں اس وقت تک ملک میں ان کے لئے با عزت زندگی کا حق تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اس نقصان رسانی کا طریقہ یہ بنایا گیا کہ ملک کے انتخابا بات (۱۹۶۰ء) میں اپوزیشن پارٹیوں کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues