Al-Risala · September 1984 · page 24

داعی اور مدعو

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴

داعی اور مدعو

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قوموں پر خدا کی طرف سے جو عذاب آتا ہے وہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک عذابِ متاصل ۔ دوسرے عذابِ تنبیہی ۔ عذابِ متاصل یعنی قوموں کو بالکل برباد کر دینے والا عذاب زلزلہ اور طوفان کے ذریعہ آتا ہے (العنکبوت ۴۰) اور عذابِ تنبیہی عام طور پر بندوں کے ذریعہ یعنی ایک قوم کو دوسری قوم پر چڑھا دینا اور اس طرح انسانوں کے ہاتھوں میں سزا دلانا (بنی اسرائیل ۵)

قدیم زمانہ میں یہود پر جو عذاب آئے ان کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالانکہ یہ سب کے سب اس طرح آئے تھے کہ کوئی سرکش قوم یا کوئی ظالم حکمران یہود کے اوپر مسلط ہو گیا ۔ اور وہ ان کی آبادیوں کو اور ان کے مقدس مقامات کو برباد کرتا رہا۔

تنبیہی سزا

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ جو صورتِ حال پیش آرہی ہے وہ اسی دوسری قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ یقینی طور پر تنبیہی عذاب ہے۔ مگر چوں کہ بظاہر وہ انسانوں کے ذریعہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے ، اس لئے مسلمان اس کو کسی قوم یا کسی حکمران کی طرف منسوب کر کے اس کو انسانی ظلم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ جو واقعہ خدا کی طرف سے پیش آرہا ہے اس کو انسانی واقعہ ثابت کرنے میں مشغول ہیں۔

یہ طرزِ فکر نہ صرف غلط ہے بلکہ وہ مسئلہ کو حل کرنے میں مزید رکاوٹ ہے۔ اس کی وجہ سے تمام مسلم قائدین کی ساری توجہ ’’ ظالموں ‘‘ کے خلاف چیخ پکار میں لگی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ان کا سبب خدائی فریضہ سے غفلت میں ہے تو خدائی فریضہ کی ادائیگی ہی سے ان کا خاتمہ ہو گا نہ کہ مفروضہ ظالموں کے خلاف شور و غل کرنے سے۔

مسلمانوں کا مسئلہ اس وقت ساری دنیا میں صرف ایک ہے ـــــــــ ان کو ان کی مدعو اقوام کے ہاتھوں ستایا جار ہا ہے۔ گویا کہ وہ زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ تم ہماری آخرت کو برباد کر رہے ہو تو ہم تمہاری دنیا کو برباد کریں گے۔ یہ یقینی طور پر مسلمانوں کی دعوتی غفلت کے نتیجہ میں ہو رہا ہے۔ دوبارہ اس صورت حال کا خاتمہ صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان اپنی دعوتی غفلت کو ختم کریں۔ وہ اقوامِ عالم کے سامنے خدا کے دین کے داعی بن کر کھڑے ہوں۔ جب تک وہ ایسا نہ کریں گے کوئی بھی دوسری

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page