He who likes to generalize generally lies.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱
مقابل کو نقصان پہنچانے کے لئے وہ سب کچھ کر ڈالنا چاہتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ یہ واقعہ آپ مسلم اور مسلم کے درمیان بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور مسلم اور غیر مسلم کے درمیان بھی۔
ایک لفظ میں یہی تمام فسادات کی جڑ ہے۔ فساد ہمیشہ غصہ اور انتقام کے جذبہ کے تحت پیدا ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص خدا نے ایسا پیدا نہیں کیا جس کی عام حالت غصہ اور انتقام کی ہو۔ یعنی وہ ہر وقت بس غصہ اور انتقام سے بھرا رہتا ہو۔ غصہ اور انتقام وقتی کیفیات کا نتیجہ ہیں نہ کہ مستقل کیفیات کا نتیجہ۔ اگر یہی آدمی کی عام اور معمولی کیفیت ہوتی تو ہر وقت فساد ہوتا رہتا اور کبھی ایک دن کے لئے بھی امن و امان نظر نہ آتا۔ کہا کہ ۳۰۔ سال تک فساد نہ ہو۔
جاہلوں کی جہالت سے اعراض کرنے کا حکم جو اسلام میں دیا گیا ہے اس کی مصلحت یہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایسے موقع کو ٹالا جائے" اعراض" کا اسلامی اصول ہر قسم کے فساد سے بچنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔ مگر اس تدبیر کو اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنی سرکشی کو ختم کر کے اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند بنائے۔ ورنہ وہ اپنی سرکشی کے تحت دوسروں کے انا کو جگا کر فساد کروائے گا۔ اور جب فساد ہو چکا ہوگا تو خود معصوم بن کر دوسروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues