نفسیاتی پہلو
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۵
الی اللہ کے لئے نہ اٹھیں۔
موجودہ زمانہ میں دعوت الی اللہ کے کام کو مسلمانوں نے بالکل چھوڑ رکھا ہے۔ حتیٰ کہ آج شاید دنیا بھر میں چند آدمی بھی نہیں جن کو دعوت الی اللہ کی اہمیت کا واضح شعور حاصل ہو۔ ان کی بڑی تعداد کا یہ حال ہے کہ یا تو وہ دعوتی کام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یا وہ خود جس قومی یا تہذیبی احیاء کے لئے سرگرم ہیں اس کو انھوں نے اسلامی دعوت کا نام دے دیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ آج بھی بہت سے خدا کے بندے اپنے آپ کو اسلام کے سایہ رحمت میں داخل کر رہے ہیں۔ مگر اس میں مسلمانوں کی دعوتی کوشش کا کوئی دخل نہیں۔ یہ وہ سعید روحیں ہیں جن کو خدا کے فضل خاص سے قبول حق کی توفیق ملی۔ انھوں نے بطور خود صراط مستقیم کو پالیا نہ کہ مسلمانوں کی کوشش سے۔ اس دعوتی غفلت کے ساتھ دوسرا سنگین جرم یہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں اپنی مدعو اقوام سے سیاسی اور مادی لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح انھوں نے مدعو کو حریف اور رقیب بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا ناقابل معافی جرم ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ دوبارہ خدا کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہو تو انہیں یک طرفہ طور پر وہ تمام جھگڑے ختم کرنے ہوں گے جنھوں نے مدعو اقوام کو حریف اقوام میں تبدیل کر دیا ہے۔ دوسری قوموں سے حریف اور رقیب کا رشتہ ختم کر کے اپنے اور ان کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال کرنا اس سلسلہ کا پہلا قدم ہے۔ اس کے بغیر امت مسلمہ کے لئے کسی حقیقی مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے سب سے بڑی چیز جو کھوئی گئی ہے وہ دعوتی ذہن ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اس کو بالکل بھول گئے ہیں کہ غیر مسلم اقوام ہماری مدعو ہیں اور ہم ان کے داعی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ بربادی کے جو واقعات پیش آرہے ہیں وہ سب اسی غفلت کی قیمت ہیں۔ یہ واقعات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک مسلمان اپنی اس کو تاہی کو جاری رکھیں ۔ دعوتی کو تاہی اور ملی ترقی دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔
نفسیاتی پہلو
فلیویوس جوزفس کوک (Flavius Josephus Cook) کا قول ہے کہ خدا تجارت کو اپنا مبلغ بناتا ہے:
God is making commerce his missionary
یہ اس نفسیات کا نہایت صحیح اظہار ہے جو ایک داعی کے اندر اپنے مدعو کے لئے پیدا ہوتی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues