Al-Risala · September 1984 · page 47

دشمن دوست بن جاتا ہے

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۷

تجھ میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی قریبی دوست۔ اور یہ بات انہیں کو ملتی ہے جو صبر والے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جس کی بڑی قسمت ہے۔ اور اگر تجھ کو شیطان کی طرف سے کچھ وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ پکڑو۔ بے شک وہ سننے والا ، جاننے والا ہے (حم سجده ۳۶ - ۳۴) ان آیات کی تشریح میں دو تفسیروں کا اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے : (ولا تستوى الحسنة ولا السيئة) ای فرق عظیم بين هذه و هذه (ادفع بالتي هي احسن) ای من اساء اليك فادفعه عنك بالاحسان اليه كما قال عمر رضی الله عنه : ما عاقبت من عصي الله فيك بمثل ان تطيع الله فيه (فاذا الذى بينك و بينه عداوة كأنه ولي حمیم ) وهو الصدیق ای اذا احسنت الى من اساء اليك قادته الحسنة اليه الى مصافاتك و محبتك والحنو عليك حتى يصير (كانه ولى حمیم ) ای قريب اليك من الشفقة عليك والاحسان اليك (وما يلقاها الا الذين صبروا ) ای و ما يقبل هذه الوصية و يعمل بها الا من صبر على ذلك فانه يشق على النفوس ۔ و ما يلقاها الا ذو حظ عظیم ) ای ذو نصيب وافر من السعادة فى الدنيا والآخرة ۔ قال ابن عباس فى تفسير هذه الآية : أمر الله المومنين بالصبر عند الغضب والحلم عند الجهل والعفو عند الاساءة ۔ فاذا فعلوا ذلك عصمهم الله من الشيطان وخضع لهم عدوهم كانه ولی حمیم ۔

مختصر تفسیر ابن کثیر جلد ۳، صفحه ص ۲۶ قال ابن عباس : ادفع بحلمك جهل من يجهل اور حسنہ اور سیئہ برابر نہیں ہوسکتے، یعنی اس کے اور اُس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ احسن طریقہ سے دفع کرو ، یعنی جو شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے تم اس کا جواب دو ، جیسا کہ حضرت عمر فاروق نے فرمایا : جو شخص تمہارے ساتھ خدا کی نافرمانی کرے اس کا سب سے اچھا بدلہ یہ ہے کہ تم اس کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرو۔ پھر تمہارے ساتھ جس کی عداوت ہے وہ قریبی دوست کی طرح ہو جائے گا، یعنی جب تم ایسا کرو گے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو گے تو تمہاری اچھائی اس کے اندر محبت اور ہمدردی کا جذبہ پیدا کرے گی۔ یہاں تک کہ وہ تمہارا دوست اور تمہارا مہربان بن جائے گا۔ اور اس کو صرف نصیبہ والے پاتے ہیں، یعنی جو دنیا اور آخرت میں بڑے خوش قسمت ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں، جہالت کے وقت برداشت کریں، اور برائی کے وقت معاف کر دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچا لے گا اور ان کے دشمن کو پست کر کے ان کا دوست بنا دے گا۔

عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص تمہارے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues

Printed page