دشمن دوست بن جاتا ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۸
ليك (تفسير القرطبي)
واما ينزغنك من الشيطان نزغ فاستعذ بالله ای وان وسوس اليك الشيطان بترك ما امرت به من الدفع بالتي هي احسن و اراد ان يحملك على البطش و الانتقام فاستعذ بالله من كيده و شره ( انه هو السميع العليم ) ای هو السميع لاقوال العباد ، العليم بافعالهم واجوالهم صفوة التفاسير ، جلد ثالث ، صفحه ۱۲۳ جہالت کرے اس کے جہل کا مقابلہ تم برداشت سے کرو۔
اور جب شیطان تمھیں اکسائے تو اللہ سے پناہ مانگو، یعنی احسن طریقہ سے دفع کرنے کا حکم جو تھیں دیا گیا ہے، اگر شیطان تھیں اس کو چھوڑنے کے لئے ابھارے اور تم کو اکسائے کہ پکڑو اور انتقام لو تو شیطان کے دھوکے اور شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اللہ یقیناً بندوں کے کلام کو سنتا ہے اور وہ ان کے اعمال سے باخبر ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری قوموں کی طرف سے جو کچھ پیش آرہا ہے۔ اس کی وجہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ مسلمانوں نے برداشت کو کھو دیا ہے۔ یہ دراصل اپنی بے صبری کی قیمت ہے جس کو آج مسلمان بھگت رہے ہیں۔ صبر اور برداشت کھونے کا سبب یہ ہے کہ داعیانہ مقصد ان کے سامنے نہیں رہا۔ مسلمانوں کو اگر دوبارہ اٹھانا ہے تو ان کو اس کے لئے تیار کرنا ہوگا کہ وہ دعوت کو اپنا مقصد حیات بنائیں۔ اس کے بعد ہی ان کے اندر وہ محرک پیدا ہوگا جو آدمی کو بلند حوصلہ اور بلند کردار بناتا ہے۔ اور جو قوم بلند حوصلہ اور بلند کردار ہو اس کو کوئی بھی چیز شکست نہیں دے سکتی۔ مسلمانوں کو اگر داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھایا جاسکے تو ان کے اندر اپنے آپ حکمت اور صبر کی صفات پیدا ہوجائیں گی جو گویا ہر قسم کے فساد کی قاتل ہیں۔ دعوت الی اللہ کے لئے اٹھنا اپنے آپ کو آخرت کی پکڑ سے بچانا ہے، اور اسی کے ساتھ دنیا کی پکڑ سے بچانا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues