Al-Risala · October 1984 · page 4

کیسا عجیب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴

کیسا عجیب

میں شہر کی ایک پر رونق سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ تیز رفتار سواریاں مسلسل میرے سامنے سے گزررہی تھیں۔ وہ انسانوں کو لئے ہوئے ادھر ادھر جارہی تھیں۔ جیسے وہ کسی منزل کی طرف رواں ہوں۔ جیسے وہ کسی پہنچنے کی جگہ پر پہنچنا چاہتی ہوں ۔

یہ دیکھ کر مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے یہ سواریاں نہیں ہیں بلکہ خدا کے فرشتے ہیں جو انسانوں کو لئے ہوئے تیزی سے بھاگ رہے ہیں تاکہ جلد از جلد تمام انسانوں کو اس کے خالق و مالک کے دربار میں پہنچادیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کی طرف جارہے ہیں۔ حالاں کہ وہ خدا کی منزل کی طرف لے جائے جا رہے ہیں نہ کہ اپنی کسی منزل کی طرف ۔

زندگی کیا ہے، موجودہ دنیا میں امتحان کی مہلت ۔ موت کیا ہے، آخرت کی دنیا میں بغیر داخلہ۔ موجودہ دنیا میں ہم ٹھیک ویسے ہی ہیں جیسے طالب علم امتحان ہال میں ہوتا ہے۔ کوئی طالب علم صرف گھنٹہ بجنے تک امتحان ہال میں رہ سکتا ہے۔ گھنٹہ بجتے ہی وہ اس میں قیام کا حق کھو دیتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں انسان صرف اس وقت تک ہے جب تک موت یا قیامت کا گھنٹہ نہ بجے ۔ گھنٹہ بجنے کے بعد نہ دنیا اس کی رہ جاتی ہے اور نہ وہ دنیا کا ۔

انسان سمجھتا ہے کہ میں اپنی دنیا میں ہوں۔ حالاں کہ وہ صرف خدا کی دنیا میں ہے۔ انسان کو جو کچھ ملا ہے وہ خدا کے دئے سے ملا ہے۔ وہ عین اسی لمحہ چھن جائے گا جب کہ خدا ان کو چھیننے کا فیصلہ کرے ۔ اس کے بعد انسان اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ہوگا جن کو آج وہ اپنا سمجھ رہا ہے۔

انسان پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ بھوکا ہوگا مگر اس کے پاس کھانے کو نہ ہوگا جس سے وہ اپنی بھوک مٹائے۔ وہ پیاسا ہوگا مگر اس کے پاس پانی نہ ہوگا جس سے وہ اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کرے۔ اس پر سخت سردی کا موسم آئے گا مگر اس کے پاس گرم کپڑے نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے بدن کو گرم کرے۔ اس کو سخت گرمی کا سامنا ہوگا مگر اس کو کوئی سایہ نہ ملے گا جس کے نیچے جاکر وہ ٹھنڈک حاصل کرے۔

آہ ، کیسا عجیب دن انسان پر آنے والا ہے مگر وہ اس سے کتنا زیادہ غافل بنا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page