Al-Risala · October 1984 · page 6

عقیدہ خدا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۶

عقیدہ خدا

شیر کو دیکھنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو مردہ عجائب خانہ میں دیکھیں۔ اور دوسرا شیر وہ ہے جو کھلے جنگل میں نظر آتا ہے۔ مردہ عجائب خانہ میں شیر کی کھال کے اندر بھس بھر کر اس کو کھڑا کر دیتے ہیں۔ بظاہر وہ شیر کی مانند ہوتا ہے۔ مگر وہ صرف شیر کی صورت ہوتی ہے، نہ کہ فی الواقع شیر۔ ایسے شیر کو لوگ صرف تفریح کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کوئی بھی شخص اس سے ڈرنے یا بھاگنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

مگر جنگل کا شیر ایک زندہ شیر ہے۔ وہ ناقابل تسخیر قوت کا نشان ہے۔ وہ جب چلتا ہے تو سارا جنگل سہم اٹھتا ہے۔ وہ جب دھاڑتا ہے تو جانور دہشت زدہ ہو کر گر پڑتے ہیں۔ کوئی آدمی اگر جنگل میں زندہ شیر کو دیکھ لے تو وہ سر سے پاؤں تک کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے تمام ہوش و حواس گم ہو جاتے ہیں۔ وہ ویسا نہیں رہتا جیسا وہ اس کو دیکھنے سے پہلے تھا۔

اس مثال سے خدا کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ خدا پر عقیدہ کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے خدا پر تقلیدی عقیدہ۔ دوسرا ہے خدا پر زندہ عقیدہ۔

خدا پر تقلیدی عقیدہ ایک بے جان عقیدہ ہے۔ ایسا عقیدہ آدمی کی روح کو نہیں تڑپا تا۔ وہ اس کی رگوں میں بجلی بن کر نہیں دوڑتا۔ وہ آدمی کے اندر کوئی ہلچل پیدا نہیں کرتا۔ خدا کے تقلیدی عقیدہ میں خدا کو ماننا ہوتا ہے مگر خدا سے ڈرنا نہیں ہوتا۔

مگر خدا پر زندہ عقیدہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ خدا پر زندہ عقیدہ خدا کو اس کی اکناف قوتوں کے ساتھ اس کو دکھی لینے کا نام ہے۔ جو شخص اس طرح خدا کو پالے وہ پانے کے بعد ویسا نہیں رہ سکتا جیسا کہ وہ پانے سے پہلے تھا۔ خدا کو پانے کے بعد اس کے سارے وجود کے اندر بھونچال آجاتا ہے۔ خوف کی شدت سے اس کی روح سہم اٹھتی ہے۔ اس کے ذہن سے تمام دوسرے مسائل حذف ہو جاتے ہیں۔ وہ صرف ایک ہی مسئلہ کو جانتا ہے اور وہ خدا کا مسئلہ ہے۔

خدا کا زندہ عقیدہ اور خدا کا خوف دونوں ناقابل تقسیم ہیں۔ آپ خدا کے زندہ عقیدہ سے خدا کے خوف کو الگ نہیں کر سکتے۔ جہاں یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں وہاں سمجھ لیجیے کہ خدا کا زندہ عقیدہ نہیں بلکہ صرف تقلیدی عقیدہ ہے اور تقلیدی عقیدہ کی کوئی قیمت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page