Al-Risala · October 1984 · page 8

توحید اور شرک

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۸

توحید اور شرک

آدمی کو موجودہ دنیا میں زندہ رہنے کے لئے ایک سہارا درکار ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی بڑائی - میں جیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو خدا کی بڑائی میں جیتے اور غیر مومن وہ ہے جو خدا کے سوا دوسری بڑائیوں میں جیتا ہو۔

قدیم زمانہ کا مشرک انسان چاند اور سورج کی بڑائی میں جیتا تھا۔ موجودہ زمانہ کا مادہ - پرست انسان مادی قوتوں کی بڑائی میں جی رہا ہے۔ کچھ لوگ دولت کو بڑا بنا کر اس کو اپنی تلاش کا جواب بنائے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ انسانی اکابر کی بڑائی میں گم رہتے ہیں اور اس طرح اپنے اس فطری جذبہ کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔

یہ تمام کی تمام شرک کی صورتیں ہیں۔ یہ ایک حقیقی تلاش کا مصنوعی جواب ہے۔ مومن وہ ہے جو فطرت کی تلاش کے سچے جواب کو پالے۔ جو ظاہری چیزوں میں نہ اٹکے۔ بلکہ ظاہری اور نمائشی چیزوں سے گزر کر آخری حقیقت تک پہنچ جائے۔

مومن انسان جب ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو وہ ان کی ظاہری چمک سے فریب نہیں کھاتایہ۔ تمام چیزیں اس کو صرف مخلوق نظر آتی ہیں۔ وہ اس کو اسی مقام عجز پر دکھائی دیتی ہیں جہاں وہ خود کھڑا ہوا ہے۔ مومن ان چیزوں میں سے کسی چیز پر نہیں ٹھہرتا۔ اس کا سفر جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ مخلوقات سے گزر کر خالق کو پالیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنی تمام چیزوں کو خدا کا عطیہ سمجھے۔ جو اپنے عجز کی تلافی خدا سے کرے۔ جس کو زمین کے حسن میں خدا کا حسن دکھائی دے۔ جس کو کائنات کی عظمت میں خدا کی عظمت نظر آئے۔ جو تمام بڑائیوں کو خدا کی بڑائی کا عکس سمجھتا ہو۔ جو خدا کے جلووں میں اس طرح گم ہو جائے کہ اس کی حمد خوانی اس کا لذیذ ترین مشغلہ بن جائے۔

ایمان کا مطلب در اصل حاضر میں غائب کو دیکھنا ہے۔ جو کچھ سامنے ہے اس میں اس چھپی ہوئی چیز کو دیکھ لینا ہے جو سامنے نہیں ہے۔ جس کو یہ نظر حاصل ہو جائے اس کو اپنے چاروں طرف صرف خدا کی بڑائی دکھائی دیتی ہے۔ وہ صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنا لیتا ہے۔ وہ خدا کی بڑائی میں اس طرح گم ہو جاتا ہے کہ اس کو نہ اپنی بڑائی نظر آتی اور نہ دوسروں کی بڑائی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page