Al-Risala · October 1984 · page 9

فیصلہ خداوندی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۹

فیصلہ خداوندی

مفسرین قرآن کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے کہ ایک مجلس تھی جس میں یہودی بھی، عیسائی بھی اور مسلمان بھی۔ ان میں سے ہر گروہ کا یہ خیال تھا کہ وہ دوسروں سے پہلے جنت میں داخل ہوگا۔ یہودیوں نے کہا کہ ہم موسیٰ کے پیرو ہیں جن کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لئے چنا اور ان سے کلام کیا۔ عیسائیوں نے کہا کہ ہم عیسیٰ کے پیرو ہیں جو اللہ کی روح اور اس کی حکمت تھے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم محمد خاتم الرسل کی امت ہیں اور ہم خیر امت ہیں جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے۔ قرآن نے اس کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے صاف طور پر کہا کہ نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر، جو شخص بھی برا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ پائے گا۔ اور جو کوئی بھی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔ (النساء ۲۳ - ۱۲۳)۔ ایک اثر میں ہے کہ ایمان نہ خوش خیالیوں کا نام ہے اور نہ ظاہری نمائشوں کا۔ بلکہ اس چیز کا نام ہے جو دل میں ہو اور عمل اس کی تصدیق کرے : كما ورد في الأثر ( ليس الايمان بالتمني ولا بالتحلي ولكن ما وقر في القلب وصدقه العمل ). روى جماعة من المفسرين للقرآن الكريم ان مجلسا ضم بعضا من اليهود والنصارى والمسلمين ، فزعمَت كل طائفة منهم انهم اولى الناس بدخول الجنة - اليهود قالوا نحن اتباع موسى الذي اصطفاه الله برسالاته وبكلامه ، والنصارى قالوا نحن اتباع عيسى روح الله وحكمته - والمسلمون قالوا نحن اتباع محمد خاتم النبيين وخير أمة اخرجت للناس ، فحسم القرآن ذلك وخاطب المسلمين فى صراحة ووضوح بقول الله تعالى : ليس بامانيكم ولا اماني اهل الكتاب من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا . ومن يعمل من الصالحات من ذكر وأنثى وهو مؤمن فاولئك يدخلون الجنة ولا يظلمون نقيرا ، النساء ۱۲۳ و ١٢٤ ہر مذہب کے لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے مذہب کو دوسرے تمام مذاہب سے افضل ثابت کرتے ہیں اور پھر یہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کا مذہب چونکہ سب سے افضل مذہب ہے اس لئے ان کو خدا کے یہاں سب سے افضل مقام حاصل ہوگا۔

اس قسم کا عقیدہ سراسر بے بنیاد عقیدہ ہے۔ مذاہب کے درمیان جو تقسیم ہے وہ صرف محفوظ اور غیر محفوظ کی ہے نہ کہ افضل اور غیر افضل کی۔ خدا کے یہاں ہر آدمی اپنے ذاتی عمل کے اعتبار سے جانچا جائے گا اور جو شخص اپنے عمل کے اعتبار سے جس درجہ کا ہوگا وہی درجہ اس کو ملے گا۔ درجہ بندی کا کوئی دوسرا معیار خدا کے یہاں نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page