دو سو سال
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۱
دو سو سال
۱۷۸۲ء میں ایک انگریز ایڈنبر اسے گلیڈ گو آیا۔ اس کے پاس دو سو پونڈ تھے اور ایک لکڑی کا پریس۔ اس نے اس کے ذریعہ ایک اخبار جاری کیا۔ ابتداء اس کا نام تھائلڈ گو ایڈورٹائزر (Glasgow Advertiser) یہی وہ اخبار ہے جواب (Glasgow Herald) کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کی موجودہ اشاعت روزانہ چار لاکھ ہے۔ اس کے اجرا پر اب دو صدیاں گزر چکی ہیں۔
اس کا بانی جان مننز (John Mennons) ہر قسم کے ناموافق حالات سے دوچار تھا۔ البتہ ایک مصر کے الفاظ میں ایک چیز اس کے پاس افراط کے ساتھ موجود تھی۔ وہ تھا اس کا اتھاہ جوش (Limitless enthusiasm) اتھاہ جوش اس کے لئے ہر کمی کا بدل بن گیا۔ اس نے ایک ایسے اخبار کی بنیاد رکھی جو دو سو سال سے مسلسل جاری ہے۔ درمیان میں شرکار کے درمیان زبردست اختلافات بھی پیدا ہوئے مگر وہ حکمت اور صبر کے ساتھ طے کر لئے گئے۔
جو اخبار دو سو سال پہلے لکڑی کے پریس میں ہاتھ کے عمل سے چھاپا گیا تھا وہ آج تمام کا تمام آٹومیٹک مشینوں کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں حروف کمپوز نہیں کئے جاتے اور نہ ڈھالے جاتے ۔ بلکہ وہ لیزر شعاعوں کے ذریعہ پلیٹ پر منعکس ہوتے ہیں۔ کاغذ اپنے آپ چھپ کر نکلتا ہے۔ وہ اپنے آپ مڑتا ہے۔ اس کے بعد اس کے بنڈل بنتے ہیں اور بنڈل کے اوپر پولی تھین لپیٹا جاتا ہے۔ اور پھر ڈسپچ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ سب کمپیوٹر کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا ۲۲ جنوری ۱۹۸۴ء ) مذکورہ انگریزی اخبار چوں کہ برابر دو سو سال سے جاری ہے۔ اس لئے یہ ممکن ہوا کہ اس دوران میں ہونے والی تمام طباعتی اور اشاعتی ترقیاں اس کی تاریخ کا جز بن جائیں۔ وہ اس کی ترقی کے لئے زینہ بنتی چلی جائیں۔ اگر بالفرض وہ ابتدائی ۲۵ سال یا ۵۰ سال میں بند ہو گیا ہوتا تو دنیا میں ہر قسم کی ترقیاں ہوتیں مگر مذکورہ اخبار ان ترقیوں میں حصہ دار بننے کے لئے موجود نہ ہوتا۔
موجودہ دنیا میں کوئی کام " دو دن " میں انجام نہیں پاتا۔ اس کو کرنے کے لئے " دو سو سال " درکار ہوتے ہیں۔ مگر دو سو سالہ منصوبہ کی تکمیل کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ جوش عمل اور استقلال - ان دو چیزوں کے بغیر یہاں کوئی بڑی ترقی ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues