رواجی ذہن
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲
رواجی ذہن
الیس ہو وے (Elias Howe) امریکہ کے مشہور شہمہ ماسا چوسٹ کا ایک معمولی کاریگر تھا۔ وہ ۱۸۱۹ میں پیدا ہوا اور صرف ۴۸ سال کی عمر میں ۱۸۶۷ میں اس کا انتقال ہو گ۔ مگر اس نے دنیا کو ایک ایسی چیز دی جس نے کپڑے کی تیاری میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ یہ سلائی کی مشین تھی جو اس نے 1845 میں ایجاد کی۔
الیس ہو وے نے جو مشین بنائی۔ اس کی سوئی میں دھاگا ڈالنے کے لئے ابتدا رسوئی کی جڑ کی طرف چھید ہوتا تھا جیسا کہ عام طور پر ہاتھ کی سوئیوں میں ہوتا ہے۔ ہزاروں برس سے انسان سوئی کی جڑ میں چھید کرتا آ رہا تھا۔ اس لئے الیس ہو وے نے جب سلائی کی مشین تیار کی تو اس میں بھی عام رواج کے مطابق اس نے جڑ کی طرف چھید بنایا۔ اس کی وجہ سے اس کی مشین ٹھیک کام نہیں کرتی تھی۔ شروع میں وہ اپنی مشین سے صرف جوتا سی سکتا تھا۔ کپڑے کی سلائی اس مشین پر ممکن نہ تھی۔
الیس ہو وے ایک عرصہ تک اسی ادھیڑ بن میں رہا مگر اس کی سمجھ میں اس کا کوئی حل نہیں آتا تھا۔ آخر کار اس نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب نے اس کا مسئلہ حل کر دیا۔
اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی وحشی قبیلہ کے آدمیوں نے اس کو پکڑ لیا ہے اور اس کو حکم دیا ہے کہ وہ ۲۴ گھنٹہ کے اندر سلائی کی مشین بنا کر تیار کرے۔ ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ اس نے کوشش کی مگر مقررہ مدت میں وہ مشین تیار نہ کر سکا۔ جب وقت پورا ہو گیا تو قبیلہ کے لوگ اس کو مارنے کے لئے دوڑ پڑے۔ ان کے ہاتھ میں برچھا تھا۔ ہو وے نے غور سے دیکھا تو ہر برچھے کی نوک پر ایک سور اخ تھا۔ بھی دیکھتے ہوئے اس کی نیند کھل گئی۔
ہو وے کو آغاز مل گیا۔ اس نے برچھے کی طرح اپنی سوئی میں یہی نوک کی طرف چھید بنایا یا اور اس میں دھاگا ڈالا۔ اب مسئلہ حل تھا۔ دھاگے کا چھید اوپر ہونے کی وجہ سے جو مشین کام نہیں کر رہی تھی وہ نیچے کی طرف چھید بنانے کے بعد بخوبی کام کرنے لگی۔
ہو وے کی مشکل یہ تھی کہ وہ رواجی ذہن سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ جو چیز ہزاروں سال سے چلی آرہی ہے وہی صحیح ہے۔ جب اس کے لاشعور نے اس کو تصویر کا دوسرا رخ دکھایا اس وقت وہ معاملہ کو سمجھا اور اس کو فوراً حل کر لیا۔ جب آدمی اپنے آپ کو ہر تن کسی کام میں لگا دے۔ تو وہ اسی طرح اس کے رازوں کو پا لیتا ہے جس طرح مذکورہ شخص نے پا لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues