کمینہ پن
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴
کمینہ پن
ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو اپنے ماتحت ملازم سے ضد ہوگئی۔ ملازم کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ خود دار قسم کا آدمی تھا اور افسر صاحب کی متکبرانہ نفسیات کو غذا نہیں فراہم کرتا تھا۔ وہ اس کو ملازمت سے تو نہیں نکال سکتے تھے۔ البتہ انھوں نے کوشش کی کہ اس کو کسی قسم کی ترقی نہ ملنے پائے۔ جہاں کہیں دیکھتے کہ اس کے لئے ترقی اور کامیابی کی کوئی صورت پیدا ہو رہی ہے وہ فوراً اس کے خلاف رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے ۔ اس کو پروموشن کا موقع ملاجس سے اس کی تنخواہ میں تقریباً پانچ سو روپیہ مہینہ کا اضافہ ہو جاتا مگر انھوں نے زبر دست سرگرمی دکھا کر اس کا پروموشن رکوا دیا۔
اس ظلم کے باوجود افسر صاحب کی اپنی کوئی بات نہیں بگڑی۔ محکمہ کے بڑے بڑے لوگوں سے انھیں قدردانی ملتی رہی ۔ ان کے عہدہ اور مرتبہ میں اضافہ ہوتا رہا۔ عالمی کانفرنسوں میں وہ اپنے محکمہ کی نمائندگی کے لئے بھیجے جاتے رہے وغیرہ " اگر میں غلطی پر ہوتا تو مجھے یہ کامیابیاں کیسے ملتیں" انھوں نے سوچا۔ ماتحت ملازم کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود بچوں کہ ان کی اپنی کوئی بات نہیں بگڑی تھی اس لئے وہ یہی سمجھتے رہے کہ میں صحیح ہوں میرے اوپر خدا کا فضل ہو رہا ہے۔
مگر اس کی وجہ خدا کا فضل نہیں بلکہ صرف ان کا تضاد تھا۔ وہ اپنے ماتحت کے لئے کچھ تھے اور اپنے افسر کے لئے کچھ ۔ اپنے ماتحت ملازم سے انھیں بچوں کہ کسی نقصان کا اندیشہ نہیں تھا اس لئے اس کے مقابلہ میں تو وہ شیر بنے رہتے۔ مگر اوپر کے وہ لوگ جن سے خود ان کی قسمت وابستہ تھی ان کے آگے وہ اس طرح کچھ جاتے جیسے کہ وہ نرمی اور تواضع کے سوا کچھ اور جانتے ہی نہیں۔
یہی وہ کردار ہے جس کا نام کمینہ پن ہے۔ اور کمینہ پن بے کرداری کی بدترین قسم ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں کہ اپنے نیچے والوں کے لئے شیر بنے رہتے ہیں اور اپنے اوپر والوں کے لئے گیدڑ ، وہ ایسا کر کے صرف اپنی پستی کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ وہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ کیوں کہ انسان کو کیا ملے اور کیا نہ ملے ، اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا کے اوپر کسی کو اختیار نہیں۔
مزید یہ کہ دوسرے کے خلاف کیا ہو اہرعمل خود اپنے خلاف عمل ہے۔ اپنی بارگاہ میں دوسرے کو ڈسکر یڈٹ کرنے والا آدمی خدا کی بارگاہ میں اپنے آپ کو ڈسکر یڈٹ کر رہا ہوتا ہے۔ ایسا ہر سلوک خود اپنے ساتھ بد سلوکی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ خواہ اس کا ظہور موجودہ دنیا میں ہو یا بعد کو آنے والی دنیا میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues