Al-Risala · October 1984 · page 24

فطرت کا اعتراف

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴

فطرت کا اعتراف

کارل لیویس امریکا کا ایک مشہور کھلاڑی ہے۔ لاس اینجلس میں دوڑ کا عالمی مقابلہ ہوا۔ اس میں ۲۲ جون 1984 کو کارل لیویس نے اعلیٰ کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد کارل لیویس کی ایک تصویر اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس تصویر کا عکس ہم مقابل کے صفحہ پر نقل کر رہے ہیں۔ اس تصویر میں کارل لیویس بالکل سجدہ کی حالت میں دکھائی دے رہا ہے جس پٹری پر دوڑ کر اس نے یہ مقابلہ جیتا تھا، اس پٹری کے لئے اس کے دل میں عقیدت اور احسان مندی کا اتنا شدید جذبہ پیدا ہوا کہ پٹری پر اپنی پیشانی رکھ کر وہ سجدہ میں گر پڑا۔

یہ ایک تازہ مثال ہے جو بتاتی ہے کہ انسانی فطرت میں کس طرح یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ کسی کو اپنا محسن سمجھے اور اس کے آگے اپنے بڑھے ہوئے جذبات عقیدت کو پیش کر سکے۔

یہ جذبہ انسانی فطرت کا سب سے گہرا جذبہ ہے۔ کوئی بھی انسان اس سے خالی نہیں، خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب۔ انسانی فطرت کا علمی مطالعہ کرنے والے ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ جذبہ انسانی فطرت میں اس طرح پیوست (Interwoven) ہے کہ اس کو کسی بھی طرح انسان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ جذبہ دراصل خدا کی پرستش کا جذبہ ہے۔ اس جذبہ کا مرجع حقیقت وہ ہستی ہے جو انسان کی خالق ہے۔ یہ جذبہ اس لئے ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک کو پہچانے۔ وہ اس کی عظمت کا اعتراف کرے۔ وہ اس اس کے آگے اپنے آپ کو ڈال دے۔

مگر انسان فطرت کے راستہ سے انحراف کرتا ہے۔ جو چیز خدا کو دینا چاہئے وہ اسے دوسروں کو دیتا ہے۔ اسی کا دوسرا نام شرک ہے۔ آدمی اگر اپنے فطری جذبات کا مرجع ایک خدا کو بنائے تو یہ توحید ہے اور اگر وہ اس کا مرجع کسی دوسری زندہ یا مردہ چیز کو بنائے تو یہ شرک ہے۔ توحید انسانی فطرت کا صحیح استعمال ہے اور شرک انسانی فطرت کا غلط استعمال۔

انسان عین اپنی فطرت کے زور پر مجبور ہے کہ وہ کسی کو اپنا "خدا" بنائے۔ حقیقی خدا بچوں کہ ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا اس لئے وہ دکھائی دینے والی چیزوں کو خدا سمجھ لیتا ہے۔ جو کچھ خدا کو دینا چاہئے وہ اسے غیر خدا کو دے دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page