و يصعد حتى يظن الورى ٰ بان له حاجة في السماء
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰
و يصعد حتى يظن الورى ٰ بان له حاجة في السماء
( وہ اس طرح اوپر چڑھ رہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کو آسمان میں کچھ ضرورت ہے ) عظمت ماضی کے کھنڈر کو دیکھ کر جس طرح گبن اور سر سید مورخ بن گئے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ہیں جن کو عظمت ماضی کے کھنڈر نے لیڈر اور مفکر بنا دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئے جب کہ مسلمانوں کو زوال آچکا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے دورِ عظمت کے کھنڈر دیکھے۔ ان کھنڈرات کو دیکھ کر وہ تڑپ اٹھے۔ کھوئی ہوئی عظمت کے شکستہ مناظر کو دیکھ کر ان کا دل پارہ پارہ ہوگیا۔ قائدین کی بھیڑ میں کوئی نظر نہیں آتا جس نے جنت کے باغوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھا ہو اور جہنم کے شعلوں کی لپٹ محسوس کرکے تڑپ اٹھا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں آخرت کی دعوت کی کوئی حقیقی تحریک نہ اٹھ سکی۔ البتہ قومی عظمت کو حاصل کرنے کی تحریکیں اتنی زیادہ ابھر آئیں کہ ان کے شور سے شبہ ہوتا ہے کہ کہیں کان بہرے نہ ہو جائیں۔
متفقین سے گزارش
الرسالہ عام معنوں میں صرف ایک پرچہ نہیں، وہ ایک مشن ہے۔ جو لوگ اس مشن سے متفق ہیں ان سے ہماری درخواست ہے کہ حسب ذیل پروگرام میں شرکت کرکے ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں۔ ۱۔ ماہنامہ الرسالہ کی ایجنسی قائم کریں (شرائط ایجنسی آخر میں ملاحظہ فرمائیں) ۲۔ الرسالہ کے ادارہ سے چھپی ہوئی کتابیں لوگوں کے درمیان پھیلائیں۔ ۳۔ اجتماعات کے مواقع پر بک اسٹال لگائیں جس میں الرسالہ اور کتابیں رکھی جائیں۔ ۴۔ متفقین کو جوڑ کر ہفتہ وار اجتماع کریں۔
۵۔ مساجد اور دوسرے اجتماعی مقامات پر تذکیر القرآن پڑھ کر سنائیں۔ ۶۔ مختلف علاقائی زبانوں میں الرسالہ کی مطبوعات کے ترجمے شائع کریں۔ سکریٹری اسلامی مرکز
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues