Al-Risala · October 1984 · page 31

آرزوؤں کی دنیا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۱

آرزوؤں کی دنیا

جنت کا انکار اپنے آپ کا انکار ہے۔ جو شخص جنت کو نہیں مانتا وہ خود اپنی نفی کر رہا ہے۔ جو شخص جنت کو مانتا ہے مگر اس کے لئے عمل نہیں کرتا وہ ایسا خریدار ہے جو ایک چیز خرید نا چاہتا ہے مگر اس کی قیمت دینے کے لئے تیار نہیں۔

ہر انسان سب سے زیادہ کیا چاہتا ہے۔ ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پاسکے ــــــ وہ ابدی طور پر جیتا رہے۔ وہ اپنی تمام آرزوؤں کی تکمیل کر سکے۔ وہ ایسی زندگی کا مالک بنے جو ہر قسم کی محدودیت (Limitations) اور نا خوشگوار ی (disadvantage) سے خالی ہو۔

یہ آدمی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ ہر آدمی اپنی اس تمنا کی تکمیل کے لئے دوڑ رہا ہے۔ مگر کوئی بھی آدمی اپنی اس تمنا کو پورا نہیں کر پاتا۔ آدمی اپنی صحت بناتا ہے مگر بہت جلد اس کی صحت کسی حادثہ یا بڑھاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔ آدمی دولت جمع کرتا ہے مگر دولت اس کے قلب و دماغ کو سکون نہیں دیتی۔ وہ اقتدار پر قبضہ کرتا ہے مگر اقتدار صرف اس کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ وہ عیش و عشرت کے سامان اکٹھا کرتا ہے مگر جلد ہی وہ اکتاہٹ (Boredom) کا شکار ہو جاتا ہے۔

ہر آدمی اپنے لئے ایک جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ مگر وہ اپنی جنت بنا نہیں پاتا کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ وہ اپنی تمام آرزوؤں اور تمناؤں کو لئے ہوئے موجودہ دنیا سے چلا جاتا ہے۔ آدمی موت کے بعد کہاں جاتا ہے۔ وہ وہاں جاتا ہے جہاں اس کے خوابوں کی جنت بنی ہوئی ہے۔ مگر یہ جنت اس شخص کو ملتی ہے جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں اس کی قیمت ادا کی ہو۔ جو شخص موجودہ دنیا میں جنت کی قیمت ادا نہیں کرتا وہ گویا اسی چیز کی محرومی کا خطرہ مول لے رہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے۔

جنت ہماری آرزوؤں کا محل ہے۔ مگر جنت صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے اس کو آخرت میں تعمیر کیا ہو۔ جو شخص اپنی جنت موجودہ دنیا میں تعمیر کرے اس کے لئے ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ کیسی عجیب ہے وہ محرومی جب کہ آدمی عین اسی چیز سے ابدی طور پر محروم ہو جائے جس کے لئے وہ ساری عمر سب سے زیادہ آرزومند بنا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page